صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 117
صحيح البخاری جلد 112 ۶۵ کتاب التفسير / الفرقان بَاب ۱ : الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَى جَهَنَّمَ أولَبِكَ شَرٌّ مكَانًا وَ أَضَلُّ سَبِيلًا (الفرقان: ٣٥) لا ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) وہ لوگ جو اپنے مونہوں کے بل جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔وہی بلحاظ اپنے مقام کے بدترین مخلوق ہیں اور سیدھی راہ سے سب سے بڑھ کر بھٹکے ہوئے ہیں ٤٧٦٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۷۶۰: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا۔حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ الْبَغْدَادِيُّ يونس بن محمد بغدادی نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ شیبان بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔انہوں بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا نے قتادہ سے روایت کی، (قتادہ نے کہا:) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ ایک شخص نے کہا: یانبی اللہ ! کیا روز قیامت کافر اپنے منہ کے بل لے جایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: کیا وہ جس نے اس کو دنیا میں ٹانگوں پر چلایا قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ ہے قادر نہیں ہے کہ قیامت کے روز اسے منہ الْقِيَامَةِ۔قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا۔کے بل چلائے۔قتادہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور طرفه: ٦٥٢٣ - يح: تشریح ( وہ قادر ہے ) ہمارے رب کی عزت کی قسم۔الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَى جَهَنَّمَ : لفظ وَجْه بطور استعارہ اور کنایہ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔وُجُوهُ الْقَوْمِ قوموں کے سرداروں کو بھی کہتے ہیں لیکن لفظ وجوہ آیت میں اس مفہوم میں آیا ہے کہ وہ نہایت ذلیل اور بے بس ہوں گے۔مَشَى عَلَى وَجْهِهِ کا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جہالت و حماقت کی وجہ سے حد سے گزر گیا اور بہک گیا اور استقامت کا طریق چھوڑ دیا۔امام راغب نے بھی ان معانی کی طرف اشارہ کیا ہے۔غرض ایک مفہوم ذلت و بے بسی کے معنوں میں ہے اور دوسرا مفہوم جہالت و حماقت اور عدم استقامت ہے۔(المفردات فی غریب القرآن زیر لفظ وجه) آیت کریمہ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (الفرقان: ۷۰) بھی اس مفہوم کی تائید کرتی ہے۔روایت زیر باب میں آیت کو ظاہری الفاظ پر محمول کیا ہے اور تعجب سے پوچھا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی منہ کے بل چلے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عدم قدرت پر شبہ کی وجہ سے اسے جواب دیا ہے اور اس شبہ کا ازالہ کیا ہے کہ خداہر بات پر قادر ہے۔