صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 114
صحيح البخاری جلد ۶۵ کتاب التفسير / الفرقان آیت قرآنی وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا سے صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کے قہری عذاب کے نازل ہونے سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول ضرور مبعوث ہوتا ہے جو خلقت کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہے اور یہ عذاب اس کی تصدیق کے واسطے قہری نشانات ہوتے ہیں۔اس وقت بھی خدا کا ایک رسول تمہارے درمیان ہے جو مدت سے تم کو ان عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے۔پس سوچو اور ایمان لاؤ تا کہ نجات پاؤ“ ( النداء من وحي السماء، مجموعہ اشتہارات جلد ۳ حاشیه صفحه ۵۳۰) یہ امر یاد رہے کہ ہر زمانے میں مجد دین مبعوث ہوتے رہے ہیں اور ان کی بعثت در حقیقت آن حضرت لعل الله اعلم کی بعثت کا ظہور اور تسلسل تھا اور دجالی زمانے کے لئے بھی ایک موعود کا آنا مقدر تھا جو مسیح کے نام سے ملقب کیا گیا۔سو وہ اپنے وقت پر آیا اور اس نے آنحضرت صلی علیم کے اندار کو قبل از وقت دہرایا اور لوگوں کو آگاہ کیا۔الرس کے معنی ہیں کان۔امام راغب نے الرش ایک وادی کا نام بتایا ہے اور اس کی تائید میں شاعر کا مصرعہ نقل کیا ہے۔وَهُنَّ لِوَادِى الرَّسَ كَالْيَدِ فِي الْقَم (المفردات فی غریب القرآن، رش) سابقہ معنی اس کے خلاف نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم نے کان کنی اور آبپاشی کا انتظام خاطر خواہ کیا ہو ا تھا۔لسان العرب نے بھی ان معنوں کی تائید کی ہے۔(لسان العرب (سس) اور أَصْلُ الرَّسِ: الْأَثَرُ الْقَلِيْلُ الْمَوْجُوْدُ فِي الشَّيْء (المفردات فی غریب القرآن، زیر لفظ رش) کسی شے کا تھوڑا سا باقی نشان۔تباہی کے بعد محمود کی ایک باقی شاخ دوسری جگہ منتقل ہو گئی۔لفظ الرس اسم جمع ہے اس سے مراد وہ آیت ہے جس میں قدیم قوموں کی تباہی کا ذكر بطور عبرت کرتے ہوئے اصحاب الرس کا بھی نام لیا گیا ہے۔فرماتا ہے: وَعَادًا وَ ثَمُودَا وَ أَصْحِبَ الرَّشِ وَ قرونا بَيْنَ ذلِكَ كَثِيران (الفرقان: (۳۹) اور عاد، خمود اور رس والوں کو اور بہت سی قوموں کو ہم نے تباہ کر دیا۔قتادہ سے مروی ہے ان لوگوں نے یمامہ میں طاقت پکڑی اور حضرت ابن عباس کا اس بارے میں ایک قول بھی مروی ہے کہ یہ شمود قوم کا ہی حصہ تھی۔لے ممکن ہے کہ اس سے علیحدہ ہو کر یمامہ کو اپنا مستقر بنایا ہو۔جب برومند ہوئی تو الہی احکام کو پس پشت ڈال کر کمزور قبائل پر ظلم وستم ڈھانے لگی اور آخر اپنے ظلم کی وجہ سے پکڑی گئی۔ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے مواخذہ سے کوئی قوم بیچ نہیں سکتی۔دجالی اقوام کا بھی یہی حشر مقدر ہے خواہ آسمان تک پرواز کرلیں وہ عذاب سعیر سے پکڑی جائیں گی۔یہی اہل نوشتہ الہی ہے۔انذار الہی کی وعید کا ایک حصہ اوپر نقل کیا جاچکا ہے۔پوری متعلقہ آیات مع ترجمہ نقل کی جاچکی ہیں۔ما يعبوا کے معنی ہیں وہ کیا پر واہ کرتا ہے۔کہتے ہیں: مَا عَبَاتُ بِهِ شَيْئًا میں نے اس کی کچھ پرواہ نہیں کی، (جامع البيان للطبرى، سورة الفرقان، آيت وَعَادًا وَ ثَمُودَا وَ أَصْحِبَ الرَّسِ۔۔۔)