صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 113
صحیح البخاری جلد ١١٣ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان وَقَالَ غَيْرُهُ السَّعِيْرُ مُذَكَّر : حضرت ابن عباس کے ماسوا اوروں نے کہا کہ لفظ السعیر مذکر ہے کیونکہ سعر مصدر سے بروزن فَعِیل مشتق ہے اور التَّسْعِيرِ اور الْاضْطِرَامُ کے معنی ہیں شدید شعلہ زنی کرنا اور آگ بھڑ کانا۔ یہ قول ابو عبیدہ کا ہے۔ سورۃ الانعام کی تفسیر میں عذابوں کی نوعیت کے تعلق میں گزر چکا ہے کہ ہر عذاب در حقیقت ایک قسم کی جلن پیدا کرتا ہے کم ہو یا زیادہ۔ (صحیح البخاری، كتاب التفسير، سورة الأنعام باب (۲) لیکن موت کے بعد یہی عذاب جہنم کی شکل میں بھڑ کے گا اور دنیا میں بھی قیامت کے عذاب کا نمونہ دکھانے کا وعدہ ہے۔ جس کے بھڑکنے کا سبب خود انسانوں کی بد عملی اور بیا کی ہوگی۔ اس کا ذکر سورۃ الفرقان میں ہے اور السَّاعَة کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا ظہور دجال کے زمانے میں مقدر ہے اور اس زمانہ کے انسان العیاذ باللہ اس کے قریب سے قریب تر ہو رہے ہیں اور آج کل جو دنیا میں ہو رہا ہے اس سَعِير والے عذاب کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کے بیان میں کسی قسم کا مبالغہ نہیں۔ تملى عَلَيْهِ یعنی اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ لفظ تُملی اِمْلاء سے ہے، پڑھ کر سنایا جانا۔ أَمْلَيْتُ اور أَمْلَلْتُ دونوں طرح سے آیا ہے۔ یہ قول ابو عبیدہ ہی کا ہے۔ اس فقرے سے یہ آیت مراد ہے: وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ( الفرقان: (۶) اور انہوں نے کہا: یہ قرآن پہلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوالی ہیں اور اب وہ صبح و شام اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یہی اعتراض آج تک دہرایا جا رہا ہے اس کا جواب اس کے بعد کی آیت میں دیا گیا ہے۔ فرماتا ہے : قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّبُوْتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان (۷) کہہ اسے اس نے اتارا ہے جو آس اسے اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واق واقف ہے۔ وہ بہت ہی پردہ پوش اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اس جواب سے ظاہر ہے کہ سورہ فرقان کا موضوع بھی بھی۔ سابقہ سورتوں کی طرح آئندہ مہتم بالشان پیشگوئی سے ہے جو تمام اقوام عالم سے متعلق ہے۔ چنانچہ سورۂ فرقان کے شروع ہی میں فرماتا ہے : تَبْرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا (الفرقان:۲) بہت ہی برکتوں والی وہ ذات ہے جس نے فرقان اپنے بندے پر نازل فرمایا تا کہ وہ سارے جہان کی قوموں کے لئے نذیر ہو۔ الْفُرْقَانَ کے معنی ایسی کتاب جو حق و باطل میں فرق کر دینے والی ہے۔ اس صراحت کی وجہ سے ہی ہم نے کہا ہے کہ عَذَابٌ السَّعِير والی گھڑی کا تعلق ابن اللہ پکارنے والی دجالی اقوام کی سزا سے ہے۔ جس سے امید کی جاتی ہے کہ یہ قومیں اپنے باطل عقیدہ کو چھوڑ کر رجوع با سلام ہوں گی جیسا کہ سورہ فرقان کے آخری رکوع سے معلوم ہوتا ہے۔ امام بخاری نے جہاں الفاظ سے اس سورۃ کے موضوع کی نشان دہی کی ہے وہاں مفردات کی تشریح بیان کرنے کے بعد چند ابواب آیات سے قائم کئے ہیں اور اس مضمون کو روایات سے واضح تر کیا ہے۔ قارئین کو چاہیے کہ جب یہ سورتیں پڑھیں تو ان کے موضوع کو مد نظر رکھیں۔ اس زمانے کے نذیر نے کھلے الفاظ میں اس انذار کو دہرایا ہے۔ فرماتے ہیں: