صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 112 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 112

صحیح البخاری جلد ۱۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان سیاق سے واضح ہے اور رات دن کے ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے جانے اور دوران شمسی کے نظام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ نظام حرکت بہت سی برکات کا موجب ہے جن میں سے ایک وہ بھی ہے جو حضرت ابن عباس نے بیان کیا ہے یعنی دنیا کا کاروبار۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ صرف اس سے یہی مراد ہے۔ فصلوں اور قسم قسم کے پھلوں کی پیداوار کا دار ومدار اسی نظام شمسی پر ہے جس میں نظام قمری و دوران ارضی بھی شامل ہے۔ وَقَالَ الْحَسَنُ هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ : حسن بصری نے قرةَ أَعْيُنِ (آنکھوں کی ٹھنڈک) سے مراد یہ لی ہے کہ ایسی بیویاں اور اولاد عطا ہو جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت شعار ہو اور ہمارے لئے چراغ چشم اور راحت قلب کا موجب ہے۔ جریر بن حازم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حسن بصری سے قُرَّةَ أَعْيُنِ کے معنی دریافت کئے اور پوچھا: کیا اس سے مراد دنیا کی ٹھنڈک ہے یا آخرت کی ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، بلکہ قرة آمین کی دعا کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ حزم قطعی سے بھی مذکورہ بالا روایت منقول ہے جو عبد اللہ بن مبارک نے اپنی کتاب البر والصلة میں نقل ملے میں نقل کی ہے ۔ ( فتح ) ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۲۳) حسن بصری کا قول ہے : وَمَا شَيْءٌ أَقَرَّ لِعَيْنِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْ يَرَى حَبِيبَهُ فِي طَاعَةِ اللهِ مومن کی آنکھ کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز ٹھنڈا کرنے والی نہیں کہ وہ اپنے محبوب کو اللہ کی فرمانبرداری میں دیکھے۔ پوری دعا عا یہ ہے: وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: (۷۵) اور وہ جو (رحمن کے بندے ہیں ) یہ کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُبُورًا : حضرت ابن عباس نے کہا: مجبورا کے معنی ہیں ہلاکت و بربادی۔ متعلقہ آیات یہ ہیں: بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَاعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيْظًا وَ زَفِيرًا وَإِذَا الْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا نُبُورًا كَثِيرًا (الفرقان : ۱۲ تا ۱۵) نہیں بلکہ انہوں نے اس گھڑی کو جھٹلایا ہے اور ہم نے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اس گھڑی کو جھٹلایا ہے بھڑکنے والی آگ تیار کی۔ تیار کی ہے۔ جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ اس کے جوش اور بھڑکنے کی شدید آواز کو سنیں گے اور جب اس دوزخ آتش کے ایک تنگ حصے میں پھینکے جائیں گے تو وہ اس وقت فنا ہو جانے کی آرزو کریں گے۔ (اور ان سے کہا جائے گا ) آج تم ایک مصیبت موت کی آرزو نہ کرو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو دعوت دو۔ اس سورۃ کا موضوع عالمگیر عذا عذاب ہے جو السَّاعَة کے نام سے موسوم کیا ، نام سے موسوم کیا گیا ہے جو اس کی شکل و صورت بیان کی گئی ہے وہ آگ کاکھولتا ہوا جہنم ہوگا جو بھاگنے کی فرصت نہیں دے گا۔ مکذبین رسل کو اپنی اپنی جگہ پر جکڑ کر بر باد و ہلاک کر دے گا۔ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اس عذاب الہی کے ساتھ ایک بربادی نہیں ہو گی بلکہ بہت سی بربادیاں ہوں گی۔