صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 111 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 111

صحيح البخاری جلد 佻 ۶۵ کتاب التفسير الفرقان لَا يُعْتَدُّ بِهِ۔غَرَامًا (الفرقان : ٦٦) هَلَاگا۔کہتے ہیں مَا عَبَأْتُ بِهِ شَيْئًا میں نے اس کی کچھ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَعَتَوا (الفرقان: ۲۲) طَغَوا۔پرواہ نہیں کی، اس کو کچھ نہیں سمجھا۔غراما کے وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَاتِيَةِ (الحاقة : ٧) عَتَتْ معنی ہیں ہلاکت۔اور مجاہد نے کہا: دعتوا کے معنی ہیں حد سے گزر گئے۔اور ابن عیینہ نے کہا: عَنِ الْخَزَّانِ۔عاتية کے معنی ہیں وہ ( آندھی ) داروغوں کے قابو سے نکل گئی۔تشریح: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَبَاءً منثوراً : سورۃ الفرقان کے پہلے پانچ الفاظ کی تشریح حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔حضرت ابن عباس نے کہا: هباء منثورا: غبار، گرد وغیرہ جو ہوا اُٹھا کر ادھر اُدھر لے جاتی ہے۔اس سے یہ آیت مراد ہے : وَ قَدِمْنَا إلى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْتُهُ هَبَاءَ منثوران (الفرقان: (۲۴) اور ہم نے ان کے ہر قسم کے عمل کی طرف توجہ کی جو انہوں نے کیا تھا اور اس کو ہوا میں بکھیر کر اڑائے ہوئے ذرات کی طرح کر دیا۔مد الظل سے مراد وہ وقت ہے جو پو پھوٹنے کا ہو ، جب دن چڑھتا ہے۔فرماتا ہے: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ من الظل وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا ثُمَّ قَبَضْنُهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا (الفرقان: ۴۶، ۴۷) کیا تو نے اپنے رب کی شان نہیں دیکھی کہ کیسے اس نے سائے کو لمبا کیا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ایک جگہ ٹھہرا ہوا بنا دیتا۔پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا ( شاہد ) بنایا ہے۔پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا ہے۔یعنی رات صبح تک لمبی کی اور سورج نکلنے پر رات دن میں تمیز ہوئی۔مظاہر اضداد سے ہی شعور پیدا ہوتا ہے۔سیاق آیات کا یہی مضمون ہے جو امام بخاری نے نمایاں کیا ہے۔ساکنا کے معنی ہیں ایک حالت پر ٹھہرنے والا یعنی رات - ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا : یعنی طلوع آفتاب کو بطور دلیل بنایا ہے جس سے رات دن کا فرق معلوم ہوتا ہے اور انسان کو ان دونوں کے وجود کا علم ہو تو ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔یہی حال ضلالت و ہدایت کا ہے۔انبیاء سے قبل دنیا تاریکی میں غافل پڑی ہوتی ہے اور ان کی بعثت سے نور ہدایت ان کو ضلالت و ہلاکت کے طریقوں سے آگاہ کرتا اور نجات دیتا ہے۔خِلْفَةً سے مراد یہ آیت ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ الَيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذْكَرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا (الفرقان: ۶۳) اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا ہے۔اس شخص کے فائدے کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بندہ بنا چاہے۔حضرت ابن عباس کے نزدیک اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس سے دن کو کوئی کام رہ جائے وہ رات کو پورا کر سکتا ہے۔ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے جبکہ عبد الرزاق نے بسند معمر حسن بصری سے یہ مفہوم نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۲۳) لیکن آیت اپنے