صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 111
صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان لَا يُعْتَدُّ بِهِ ۔ غَرَامًا (الفرقان: (٦٦) هَلَاكًا۔ کہتے ہیں مَا عَبَأْتُ بِهِ شَيْئًا میں نے اس کی کچھ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَعَتَوا (الفرقان: ۲۲) طَغَوْا پر واہ نہیں کی، اس کو کچھ نہیں سمجھا۔ غراما کے وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَانِيَةِ (الحاقة : ٧) عَتَتْ معنی ہیں ہلاکت۔ اور مجاہد نے کہا: وَعَتوا کے معنی ہیں حد سے گزر گئے۔ اور ابن عیینہ نے کہا: عَنِ الْخَزَانِ۔ عَانِيةِ کے معنی ہیں وہ ( آندھی) داروغوں کے قابو سے نکل گئی۔ تشريح : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَبَاءً منثورا : سورۃ الفرقان کے پہلے پانچ الفاظ کی تشریح حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا: هَبَاءً منثورا: غبار ، گرد وغیرہ جو ہوا اُٹھا کر ادھر اُدھر لے جاتی ہے۔ اس سے یہ آیت مراد ہے : وَ قَدِمْنَا إِلى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْتُهُ هَبَاءً منْثُورًا (الفرقان: (۲۴) اور ہم نے ان کے ہر قسم کے عمل کی طرف توجہ کی جو انہوں نے کیا تھا اور اس کو ہوا میں بکھیر کر اڑائے ہوئے ذرات کی طرح کر دیا۔ من الظل سے مراد وہ وقت ہے جو پو پھوٹنے کا ہو ، جب دن چڑھتا ہے۔ فرماتا ہے: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَنَ الظَّلَّ وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا ثُمَّ قَبَضْنُهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا (الفرقان: ۴۶، ۴۷) کیا تو نے اپنے رب کی شان نہیں دیکھی کہ کیسے اس نے سائے کو لمبا کیا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ایک جگہ ٹھہرا ہوا بنا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا (شاہد) بنایا ہے۔ پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا ہے۔ یعنی رات صبح تک لمبی کی اور سورج نکلنے پر رات دن میں تمیز ہوئی۔ مظاہر اضداد سے ہی شعور پیدا ہوتا ہے۔ سیاق آیات کا یہی مضمون ہے جو امام بخاری نے نمایاں کیا ہے۔ سَاكِنا کے معنی ہیں ایک حالت پر ٹھہرنے والا یعنی رات ۔ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا : یعنی طلوع آفتاب کو بطور دلیل بنایا ہے جس سے رات دن کا فرق معلوم ہوتا ہے اور انسان کو ان دونوں کے وجود کا علم ہو تو ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہی حال ضلالت و ہدایت کا ہے۔ انبیاء سے قبل دنیا تاریکی میں غافل پڑی ہوتی ہے اور ان کی بعثت سے نور ہدایت ان کو ضلالت و ہلاکت کے طریقوں سے آگاہ کرتا اور نجات دیتا ہے۔ خِلْفَةً سے مراد یہ آیت ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ الَيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا (الفرقان : ۶۳) اور وہی ہے جس انے نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا ہے۔ اس شخص کے فائدے کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار ہے گزار بندہ بننا چاہے۔ حضرت ابن عباس عباس کے نزدیک اس آیت کا سے مفہوم یہ ہے کہ جس سے دن کو کوئی کام رہ جائے وہ رات کو پورا کر سکتا ہے سکتا ہے۔ ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس جبکہ عبدالرزاق نے بسند معمر حسن بصری سے یہ مفہوم نقل کیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۲۳) لیکن آیت اپنے