صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 110
صحیح البخاری جلد ۱۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان ٢٥- سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَبَاءَ مَّنثُورًا حضرت ابن عباس نے فرمایا: هَبَاءً منثوراً سے ا ادھر (الفرقان : ٢٤) مَا تَسْفِي بِهِ الرِّيحُ مراد ہے (غبار، گرد وغیرہ) جو ہوا اُٹھا کرا مَنَ الكِنَّ (الفرقان : ٤٦) مَا بَيْنَ اُدھر لے جاتی ہے۔ مَنَّ القِلَ مراد صبح ساكنا ( الفرقان : ٤٦) دَائِمًا ۔ عَلَيْهِ سے ہونے سے سورج نکلنے تک کا وقت ہے۔ سَاكِنا طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ۔ کے معنی ہیں ایک حالت پر ٹھہرنے والا۔ عَلَيْهِ دلیلا سے مراد ہے کہ طلوع آفتاب کو بطور دليلًا (الفرقان: ٤٦) طُلُوعُ الشَّمْسِ دلیل بنایا ہے۔ خلفہ یعنی جس سے رات کو کوئی خلْفَةً (الفرقان: ٦٣) مَنْ فَاتَهُ مِنَ کام رہ جائے وہ دن کو پورا کر سکتا ہے یا جس سے اللَّيْلِ عَمَلٌ أَدْرَكَهُ بِالنَّهَارِ أَوْ فَاتَهُ دن کو کوئی کام رہ جائے وہ رات کو پورا کر سکتا بِالنَّهَارِ أَدْرَكَهُ بِاللَّيْلِ۔ وَقَالَ الْحَسَنُ ہے۔ اور حسن (بصری) نے کہا: هَبْ لَنَا مِنْ هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ کا تعلق اللہ تعالیٰ کی اعين (الفرقان: ٧٥) فِي طَاعَةِ اللهِ اطاعت سے ہے۔ مومن کی آنکھ کے لیے اس وَمَا شَيْءٌ أَقَرَّ لِعَيْنِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْ سے بڑھ کر اور کوئی چیز ٹھنڈا کرنے والی نہیں کہ يَّرَى حَبِيبَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ۔ وَقَالَ ابْنُ وہ اپنے محبوب کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں دیکھے۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا: ثبورا عَبَّاسِ ثُبُورًا (الفرقان : ١٤) وَيْلًا۔ کے معنی ہیں ہلاکت و بر بادی ۔ حضرت ابن عباس کے ماسوا اوروں نے کہا کہ لفظ السَّعِيرُ وَالْاضْطِرَامُ التَّوَقَّدُ الشَّدِيدُ تُملى مذکر ہے اور التَّسْعِیرُ اور الاضطرام کے معنی وَقَالَ غَيْرُهُ السَّعِيْرُ مُذَكَّرُ وَالتَّسْعِيرُ عَلَيْهِ (الفرقان: ٦) تُقْرَأُ عَلَيْهِ مِنْ ہیں : شدید شعلہ زنی۔ شمالی عَلَيْهِ یعنی اس پر أَمْلَيْتُ وَأَمْلَلْتُ الرَّس (الفرقان: ۳۸) پڑھی جاتی ہیں۔ یہ لفظ أَمْلَيْتُ اور أَمْلَلْتُ سے الْمَعْدِنُ جَمْعُهُ رِسَاسٌ مَا يَعْبُوا ہے۔ الرس کے معنی ہیں کان ، اس کی جمع (الفرقان: ۷۸) يُقَالُ مَا عَبَأْتُ بِهِ شَيْئًا رِسَاسٌ ہے ۔ مَا يَعبُوا یعنی وہ کیا پرواہ کرتا ہے۔