صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 2
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص و وَاحِدٌ مَجْلِسًا۔{وَقَالَ مُجَاهِدٌ فَلْيَدُدُ (یعنی آگ میں پڑنا) نَدِیا اور النَّادِي کے ایک (مريم : ٧٦) فَلْيَدَعْهُ } ہی معنی ہیں یعنی مجلس۔اور مجاہد نے کہا: فليمدد کے معنی ہیں وہ ضرور اُسے چھوڑے رکھتا ہے۔تشریح: کھیعص : حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں بالاتفاق مسلم ہے کہ ان میں سے ہر حرف کسی نہ کسی با معنی لفظ کا قائم مقام ہے۔جیسے کہ حضرت ابن عباس نے اللہ کو انا اللهُ أَعْلَمُ کا مخفف بتایا ہے اور حضرت ابن مسعودؓ نے بھی ان سے اتفاق کیا ہے۔امام اثیر الدین ابو حیان اور ابن جریر طبری وغیرہ مفسرین نے بھی حروف مقطعات کے اس طریق پر عربوں میں استعمال کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور کچھ مثالیں بھی دی ہیں۔جن میں سے یہ دو شعر مشہور ہیں۔ایک شعر کا پہلا مصرع یہ ہے: قُلْتُ لَهَا قِفِي فَقَالَتْ قَافْ حرف قافی جو مصرع کے آخر میں ہے وَقَفْتُ کا قائم مقام ہے اور پورا جملہ یہ ہے۔اَنَا وَقَفتُ یعنی میں ٹھہر گئی۔دوسری مثال یہ ہے: بِالْخَيْرِ خَيْرَاتٌ وَإِنْ شَرِّ فَا وَلَا أُرِيدُ الشَّرَّ إِلَّا أَنْ تَا (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة، القول في تأويل قوله تعالى الله ، جزء اول صفحہ ۲۱۷،۲۱۶) (البحر المحيط في التفسير لأبي حيان،سورة البقرة، آیت اله ، جزء اول صفحه (۶۰) پہلے مصرع کا آخری حرف فا، فَشَر کی جگہ ہے اور دوسرا حرف تا ، تَشَاءُ کی جگہ پر ہے اور اس شعر کے یہ معنی ہیں کہ بھلائی اختیار کرنے کے بدلے میں کتنی بھلائیاں ملتی ہیں۔اگر تم شر اختیار کرو گے تو اس کا بدلہ شر ہو گا اور میں شر کا ارادہ نہیں رکھتا سوا اس کے کہ تم چاہو۔غرض اس بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ امر سب کو تسلیم ہے۔البتہ بعض مفسرین نے حروف مقطعات کو حروف جمل ابجد هوز، خطی۔۔۔الخ) پر محمول کر کے کئی تاویلیں کی ہیں جو اکثر قیاسی ہیں اور واقعات سے کم تعلق رکھتی ہیں ان کے اعادے کی ضرورت نہیں۔اور حروف مقطعات کی جو صورت ہے وہ اب دوسری زبانوں میں بھی عام شائع اور رائج ہے بلکہ آجکل تو اس کا رواج بہت ہو چکا ہے۔جیسے N۔W۔R North Western Railway کا مخفف ہے اور دکانوں پر اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں جگہ جگہ سائن بورڈ دیکھے جاسکتے ہیں جن پر حروف مقطعات میں ان کے نام لکھے ہوئے ہیں۔حروف مقطعات کے طریق پر ہی کھیعص حروف کو اسمائے الہیہ پر محمول کیا گیا ہے۔حضرت ابنِ عباس سے مروی ہے کہ یہ حروف کریم ، ہادی، حکیم و عزیز و علیم اور صادق کا مخفف ہے۔یہ قول حاکم نے بسند عطاء بن سائب، سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے اور انہی سے ایک اور روایت میں حرف یاء کو یمین اور کاف کو کبیر کا مخفف بتایا گیا ہے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء۸ حاشیہ صفحہ ۵۴۲) (تفسير الماوردى، سورة البقرة، آیت اله جزء اول صفحه ۶۴)