صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 109
صحيح البخاری جلد 1+9 -۲۵ کتاب التفسير / النور بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ( النور : ۳۲) أَخَذْنَ عورتوں نے اپنے تہ بند لئے اور انہیں کناروں أُزْرَهُنَّ فَشَقَّقْنَهَا مِنْ قِبَلِ الْحَوَاشِي سے پھاڑ کر بطور اوڑھنیاں استعمال کیا۔فَاحْتَمَرْنَ بِهَا۔طرفه: ٤٧٥٨۔ووو مريح۔وَلْيَضْرِ بْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبه : غض بصر سے متعلق اسلامی حکم پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔اسی تعلق میں متعلقہ آیت میں غیر مردوں پر اپنی زینت نمایاں نہ کرنے کا ارشاد ہے۔اگر عورت کو باہر جانے کی ضرورت ہو تو اسے اوڑھنی سے اپنے سینے کو ڈھانکنے کا حکم ہے جس کی وضاحت باب کی روایتوں سے کی گئی ہے۔مزط عربی زبان میں آن سلے کپڑے کو کہتے ہیں۔سوتی چادر ہو یا اونی کپڑا اوڑھنیوں اور ساڑھیوں پر بھی یہ لفظ اطلاق پاسکتا ہے۔ازاز عربی میں نہ بند کو کہتے ہیں لفظ مزط میں ازار شامل ہے۔مزط کا کپڑا فراخ ہوتا ہے۔حضرت عائشہ نے صحابیات اول کی تعمیل حکم کے شوق کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی چادروں کی پر واہ نہیں کی اور ان کو پھاڑ کر اپنا سر منہ اور سینہ ڈھانپنے کی فورا تدبیر کرلی۔لیکن آج کل (افسوس ہے کہ ) مسلمان کہلانے والی عورتوں کا عمل اس کے برعکس ہے۔ان کی اوڑھنیاں اور ساڑھیاں ایسے باریک کپڑے کی ہوتی ہیں کہ جسم بجائے چھپنے کے اس کی خوبصورتی اور برہنگی نمایاں ہو جاتی ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اوڑھنیوں کو ہٹ کر باریک سی رسیاں بنادی جاتی ہیں۔چہرے، سر اور سینے برہنہ ہوتے ہیں اور رسی نما اوڑھنیاں کندھوں پر سے دائیں بائیں ایسے طور سے لٹکا دی جاتی ہیں جو اُن کی لٹوں سے ہم کنار ہو کر قابل ستر زینت کی نمائش دوبالا ہو جاتی ہے اور عریانی اور برہنگی کی اشاعت جو آج کل اخبارات کی تصویروں اور اعلانوں اور سینماؤں کے مناظر کے ذریعہ سے ہو رہی ہے وہ اس کے علاوہ ہے اور باب 11 میں مندرجہ آیت کی ترجمانی کرتی ہے کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں عریانی اور فحش کسی نہ کسی طرح شائع ہو اور وہ انہی کی طرح بے حیا ہو جائیں۔اسلام کے زمانے میں تو ایسے لوگوں کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی تھی کہ اس پر نگرانی اور اس کی روک تھام کا انتظام تھا۔لیکن اب ایسا انتظام نہیں۔اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ آیات اللہ کے منشاء کے مطابق انتظام کرے۔