صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 106
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النور فَسَكَتْنَا فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ کہ اس نے اپنے متعلق اقرار کر لیا ہے اور بخدا السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَ هُوَ يَمْسَحُ میں اپنی اور آپ کی مثال سوا اس کے نہیں پاتی اور جَبِينَهُ وَيَقُولُ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقَدْ میں نے حضرت یعقوب کا نام یاد کرنے کی کوشش أَنْزَلَ اللهُ بَرَاءَتَكِ۔قَالَتْ وَكُنْتُ کی مگر یاد نہ کر سکی آخر میں نے کہا: سوائے حضرت یوسف کے باپ کے جب انہوں نے کہا تھا : صبر أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا فَقَالَ لِي کرنا ہی اچھا ہے۔اور اللہ ہی سے مدد مانگی جائے أَبَوَايَ قُومِي إِلَيْهِ۔فَقُلْتُ وَاللهِ لَا اس بات میں جو تم بیان کر رہے ہو اور رسول اللہ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا مال الله ام پر اسی گھڑی وحی نازل ہو نا شروع ہوئی اور أَحْمَدُكُمَا وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللهَ الَّذِي ہم خاموش ہو گئے۔جب آپ سے وحی کی حالت لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا چاتی رہی اور میں آپ کے چہرے پر خوشی دیکھ رہی أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ وَكَانَتْ تھی اور آپ اپنی پیشانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرمانے لگے: عائشہ! تمہیں بشارت ہو اللہ نے عَائِشَةُ تَقُولُ أَمَّا زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشِ تمہاری بریت نازل کر دی ہے۔حضرت عائشہ کہتی فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا تھیں اور میں نہایت ہی غصے میں تھی جو کبھی ہوئی۔خَيْرًا وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ أَنْزَلَ بَرَاءَتِي۔میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: اٹھ کر آنحضرت فِيمَنْ هَلَكَ۔وَكَانَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِيهِ عَلى الا نیم کے پاس جاؤ اور شکریہ ادا کرو) میں نے کہا: مِسْطَحْ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُنَافِقُ اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی۔عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَةٍ وَهُوَ الَّذِي كَانَ اور نہ ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور نہ تمہارا شکریہ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى لیکن میں اس اللہ کی شکر گزار ہوں جس نے میری كِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَهُ قَالَتْ بریت نازل کی۔تم نے ایسی بات سنی اور اس کا انکار نہیں کیا اور نہ اس کے خلاف کہا اور حضرت عائشہ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَّا يَنْفَعَ کہا کرتی تھیں: زینب بنت جحش رسول الله على العلوم مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ کی زوجہ ) جو تھیں اللہ نے ان کو دینداری کی وجہ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُم سے بچالیا اور اُنہوں نے سوا بھلی بات کے اور کچھ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالسَّعَةِ نہیں کہا اور جو اُن کی بہن حمنہ تھیں وہ ہلاک ہو گئی