صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 106 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 106

صحیح البخاری جلد ١٠٦ ۶۵ - كتاب التفسير / النور فَسَكَتْنَا فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ کہ اس نے اپنے متعلق اقرار کر لیا ہے اور بخدا السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَ هُوَ يَمْسَحُ میں اپنی اور آپ کی مثال سوا اس کے نہیں پاتی اور جَبِينَهُ وَيَقُولُ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقَدْ مِیں نے حضرت یعقوب کا نام یاد کرنے کی کوشش أَنْزَلَ اللهُ بَرَاءَتَكَ۔ قَالَتْ وَكُنْتُ کی مگر یاد نہ کر سکی آخر میں نے کہا: سوائے حضرت یوسف کے باپ کے جب انہوں نے کہا تھا: صبر أَشَدَّ مَا كُنتُ غَضَبًا فَقَالَ لِي کرنا ہی اچھا ہے۔ اور اللہ ہی سے مدد مانگی جائے أَبَوَايَ قُومِي إِلَيْهِ۔ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا اس بات میں جو تم بیان کر رہے ہو اور رسول اللہ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا الم پر اسی گھڑی وحی نازل ہونا شروع ہوئی اور أَحْمَدُكُمَا وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللهَ الَّذِي ہم خاموش ہو گئے۔ جب آپؐ سے وحی کی حالت أَنْزَلَ بَرَاءَتِي۔ لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا جاتی رہی اور میں آپ کے چہرے پر خوشی دیکھ رہی أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ ۔ وَكَانَتْ تھی اور آپ اپنی پیشانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرمانے لگے: عائشہ! تمہیں بشارت ہو اللہ نے عَائِشَةُ تَقُولُ أَمَّا زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ تمہاری بریت نازل کر دی ہے۔ حضرت عائشہ کہتی فَعَصَمَهَا اللهُ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا تھیں اور میں نہایت ہی غصے میں تھی جو کبھی ہوئی۔ خَيْرًا وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةً فَهَلَكَتْ میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: اٹھ کر آنحضرت فِيمَنْ هَلَكَ۔ وَكَانَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِيهِ مَل الم کے پاس جاؤ اور شکریہ اداکروں) میں نے کہا: مِسْطَحْ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُنَافِقُ اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی۔ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ وَهُوَ الَّذِي كَانَ اور نہ ان کا شکریہ ادا کری ادا کرتی ہوں اور نہ تمہارا شکریہ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى لیکن میں اس اللہ کی شکر گزار ہوں جس نے میری كِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَةٌ۔ قَالَتْ بریت نازل کی۔ تم نے ایسی بات سنی اور اس کا انکار نہیں کیا اور نہ اس کے خلاف کہا اور حضرت عائشہ فَخَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَّا يَنْفَعَ کہا کرتی تھیں: زینب بنت جحش رسول اللہ علی الیوم مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ کی زوجہ ) جو تھیں اللہ نے ان کو دینداری کی وجہ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ سے بچالیا اور انہوں نے سوا بھلی بات کے اور کچھ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالسَّعَةِ نہیں کہا اور جو ان کی بہن حمنہ تھیں وہ ہلاک ہو گئی