صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 107
صحیح البخاری جلد (+2 -۲۵ - كتاب التفسير / النور ان يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبى وَالْمَسْكِينَ اُن لوگوں کے ساتھ جو ہلاک ہوئے اور جو اس (النور: ٢٣) يَعْنِي مِسْطَحًا إِلَى قَوْلِهِ بات کا چرچا کرتے تھے ، وہ مسطح، حسان بن ثابت الا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ اور منافق عبد اللہ بن ابی تھے۔اور یہ عبد اللہ ہی وہ شخص تھا جو اس واقعہ کی نسبت گرید گرید کر پوچھا غَفُورٌ رَّحِيم (النور: ٢٣) حَتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى وَاللَّهِ يَا رَبَّنَا إِنَّا لَنُحِبُّ اور چرچا کرنے والے لوگوں میں سے اسی شخص أَنْ تَغْفِرَ لَنَا وَعَادَ لَهُ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ نے اس بات میں بڑا حصہ لیا اور حمنہ بھی باتیں کرتی تھیں۔حضرت عائشہ نے کہا : حضرت ابو بکر اور اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے اس واقعہ کو بناتا تھا اور نے قسم کھائی کہ وہ مسطح کو کبھی بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔اس لئے اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل کی: وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ : اور تم میں سے فضل اور کشائش والے رشتہ داروں مسکینوں سے نیک سلوک کرنے میں کو تاہی نہ کریں۔اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ سے مراد حضرت ابو بکر ہیں اور أُولِي الْقُربى وَالْمَسْكِينَ سے مسطح مراد ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس قول تک کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں پردہ پوشی سے نوازے اور اللہ بہت ہی پردہ پوش اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔آخر حضرت ابو بکر نے یہ آیت سن کر کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم ! اے ہمارے رب! ہم ضرور پسند کرتے ہیں کہ تو پردہ پوشی فرما کر ہم سے درگزر کر اور حضرت ابو بکر نے جو احسان مسطح پر کیا کرتے تھے وہ دوبارہ شروع کر دیا (یعنی وہ وظیفه خوراک وغیرہ جو وہ اسے دیا کرتے تھے۔) أطرافه: ٢٥٩٣ ، ٢٦٣٧ ، ۲٦٦١، ۲۶۸۸، ۲۸۷۹، ٤۰۲۵ ٤١٤١، ٤٦٩٠ ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، ٠ ٧٥٤٥۷٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،۷۳٥٢١٢، ٦٦٦٢، ٦٦٧٩، ٦٩