صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 104
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النور تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ کر وہ اُترے اور میری ماں سے کہا: اسے کیا ہوا خَمِيرَهَا أَوْ عَجِينَهَا فَانْتَهَرَهَا ہے؟ بولیں: جو اس کی نسبت چر چا ہو ا ہے اس کی بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اصْدُقي خبر اس کو پہنچ گئی ہے۔تو حضرت ابو بکر کی آنکھوں رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے آنسو جاری ہو گئے۔کہنے لگے : بیٹی ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔میں لوٹ گئی اور رسول اللہ صلی اللی تم میرے گھر میں آئے حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِـهِ۔فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا اور میری خادمہ سے میری بابت پوچھا۔اس نے إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِعُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ کہا ہرگز نہیں اللہ کی قسم !مجھے اس کے کسی عیب کا ! الْأَحْمَرِ۔وَبَلَغَ الْأَمْرُ إِلَى ذَلِكَ علم نہیں ہوا سوا اس کے کہ وہ سو جایا کرتی ہے اور الرَّجُلِ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ بکری آکر اس کا خمیر یا آٹا کھا جاتی ہے اور آپ اللهِ وَاللهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَی کے صحابہ میں سے کسی نے اس خادمہ کو ڈانٹا اور کہا: قَطُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُتِلَ شَهِيدًا رسول الله صلى اللی نام سے سچ سچ بیان کرو۔یہاں تک فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔قَالَتْ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ کہ اس وجہ سے اس کے لئے بھی آفات بکنے لگے۔عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى دَخَلَ وہ کہنے لگی: اللہ ہی کی ذات پاک ہے۔اللہ کی قسم ! { عَلَيَّ } رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھے اس (حضرت عائشہ) میں کوئی عیب معلوم نہیں ہوا مگر اتنا ہی جو سنار خالص کندن کئے ہوئے سونے وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ میں جانتا ہے اور یہ بات اس شخص کو بھی پہنچی کہ جس وَقَدِ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ کی نسبت کہی گئی تھی۔وہ سن کر کہنے لگا: اللہ تعالیٰ شِمَالِي فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ہی کی ذات پاک ہے۔بخدا! میں نے کبھی کسی قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ عورت کا پہلو ننگا نہیں کیا۔حضرت عائشہ فرماتی قَارَفْتِ سُوءًا أَوْ ظَلَمْتِ فَتُوبِی تھیں اور وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔انہوں نے إِلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْ کہا: اور میرے ماں باپ میرے پاس صبح آئے اور عِبَادِهِ قَالَتْ وَقَدْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِّنَ وہیں رہے۔یہاں تک کہ رسول اللہ صل اللی کم میرے یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔