صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 103 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 103

صحيح البخاری جلد حَسَدْنَهَا وَقِيلَ فِيهَا۔وَإِذَا هُوَ قُلْتُ ١٠٣ ۲۵ کتاب التفسير / النور فِي السُّفْلِ وَأَبَا بَكْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ گئی ایسا معلوم ہو تا تھا کہ جس ضرورت کے لئے يَقْرَأُ فَقَالَتْ أُمّي مَا جَاءَ بِكِ میں نکلی تھی وہ مجھے بالکل نہ رہی نہ تھوڑی نہ بہت يَا بُنَيَّةُ فَأَخْبَرْتُهَا وَذَكَرْتُ لَهَا اور مجھے بخار ہو گیا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ ہم سے الْحَدِيثَ وَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا کہا: مجھے میرے باپ کے گھر میں بھیج دیں۔آپ مِثْلَ مَا بَلَغَ مِنِّي۔فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ نے میرے ساتھ ایک لڑکا بھیجا۔میں گھر میں خَفِّضِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللهِ داخل ہوئی اور میں نے اُم رومان کو (مکان کے ) لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ حَسْنَاءُ عِنْدَ نچلے حصے میں پایا اور حضرت ابو بکر اس وقت گھر رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا کے بالا خانہ میں قرآن پڑھ رہے تھے۔میری ماں بولی: بیٹی کیسے آئی ہو ؟ میں نے انہیں بتایا اور وہ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي۔قُلْتُ قصہ ان سے ذکر کیا، کیا دیکھتی ہوں کہ اس بات نے انہیں اتنی تکلیف نہ دی جتنی کہ مجھے اس سے وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي قَالَتْ نَعَمْ۔تکلیف ہوئی تھی۔وہ کہنے لگیں: بیٹی ! یہ بات معمولی وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سمجھو، پرواہ نہ کروں کیونکہ اللہ کی قسم ک ہی ایسا ہوا قَالَتْ نَعَمْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ہے کہ کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَاسْتَعْبَرْتُ وَبَكَيْتُ ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو اس کی سوکنیں بھی ہوں فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ مگر وہ اس سے حسد نہ کرتی ہوں اور اس کے متعلق الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ فَقَالَ لِأُمِي مَا باتیں نہ بنائی گئی ہوں۔مجھے تعجب ہوا کہ اس بات شَأْنُهَا قَالَتْ بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ نے ان پر اتنا اثر نہیں کیا جتنا کہ مجھ پر کیا تھا۔میں شَأْنِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ۔قَالَ أَقْسَمْتُ نے کہا: کیا میرے باپ کو بھی اس بات کا علم ہو چکا عَلَيْكِ أَيْ بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔میں نے کہا: اور رسول بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ۔وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ الله صل الل علم کو بھی ؟ انہوں نے کہا: ہاں رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ عَل لا علم کو بھی۔میرے آنسو جاری ہو گئے اور میں عَنِّي خَادِمَتِي فَقَالَتْ لَا وَاللهِ مَا رونے لگی۔حضرت ابو بکڑ نے میری آواز سنی اور عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ وہ گھر کے بالا خانہ میں قرآن پڑھ رہے تھے۔سن