صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 103
صحيح البخاری جلد ١٠٣ ۶۵ - كتاب التفسير / النور فِي السُّفْلِ وَأَبَا بَكْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ گئی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جس ضرورت کے لئے يَقْرَأُ فَقَالَتْ أُمِّي مَا جَاءَ بِكِ میں نکلی تھی وہ مجھے بالکل نہ رہی نہ تھوڑی نہ بہت يَا بُنَيَّةٌ فَأَخْبَرْتُهَا وَذَكَرْتُ لَهَا اور مجھے بخار ہو اور مجھے بخار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی الی روم علیہم سے الْحَدِيثَ وَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا کہا: مجھے میرے باپ کے گھر میں بھیج دیں۔ آپؐ مِثْلَ مَا بَلَغَ مِنِي۔ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ نے میرے ساتھ ایک لڑکا بھیجا۔ میں گھر میں خَفِّضِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللهِ داخل ہوئی اور میں نے اُم رومان کو (مکان کے) لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ حَسَّنَاءُ عِنْدَ نچلے حصے میں پایا اور حضرت ابو بکر اس وقت گھر رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا کے بالا خانہ میں قرآن پڑھ ا پڑھ رہے تھے۔ میری ماں حَسَدْنَهَا وَقِيلَ فِيهَا۔ وَإِذَا هُوَ بولی: بیٹی کیسے آئی ہو؟ میں ہو؟ میں نے اُنہیں : ں بتایا اور و وہ ، کیا دیکھتی ہوں کہ اس بات لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي۔ قُلْتُ قصہ ان سے ذکر کیا، کیا دیتی ہوں کہ نے انہیں اتنی تکلیف نہ دی جتنی کہ مجھے اس سے وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي قَالَتْ نَعَمْ۔ قُلْتُ تکلیف ہوئی تھی۔ وہ کہنے لگیں: بیٹی ! یہ بات معمولی وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سمجھے پرواہ نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم ک ہی ایسا ہوا قَالَتْ نَعَمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ ہے کہ کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَاسْتَعْبَرْتُ وَبَكَيْتُ ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو اس کی سوکنیں بھی ہوں فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ مگر وہ اس سے حسد نہ کرنے نہ کرتی ہوں اور اس کے متعلق الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ فَقَالَ لِأُمِّي مَا باتیں نہ بنائی گئی ہوں۔ مجھے تعجب ہوا کہ اس بات شَأْنُهَا قَالَتْ بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ نے اُن پر اتنا اثر نہیں کیا جتنا کہ مجھ پر کیا تھا۔ میں شَأْنِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ۔ قَالَ أَقْسَمْتُ نے کہا: کیا میرے باپ کو بھی اس بات کا علم ہو چکا عَلَيْكِ أَيْ بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اور رسول بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ۔ وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ الله صلی اللہ وسلم کو بھی ؟ اُنہوں نے کہ وں نے کہا: ہاں رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ صل السلام کو بھی۔ میرے آنسو جاری ہو گئے اور میں عَنِّي خَادِمَتِي فَقَالَتْ لَا وَاللهِ مَا رونے لگی۔ حضرت ابو بکرؓ نے میری آواز سنی اور عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ وہ گھر کے بالا خانہ میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ سن