صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 102 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 102

صحیح البخاری جلدا ۱۰۲ ۶۵ - كتاب التفسير / النور كَانُوا مِنَ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ دیں کہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ اور بنو خزرج تُضْرَبَ أَعْنَاقُهُمْ حَتَّى كَادَ أَنْ میں سے ایک شخص اُٹھا، اور حسان بن ثابت ثابت کی ماں اس شخص کی قوم میں سے تھی۔ وہ (حضرت سعد يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ شَرٌّ سے) کہنے لگا: تم نے غلط کہا ہے۔ دیکھو اللہ کی قسم! فِي الْمَسْجِدِ وَمَا عَلِمْتُ۔ فَلَمَّا اگر وہ لوگ اوس میں سے ہوتے تو تم کبھی پسند نہ كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ کرتے کہ اُن کی گردنیں اڑائی جائیں۔ غرض (اس لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ تُو تُو مَیں میں میں ) نوبت یہاں تک پہنچی کہ قریب فَعَثَرَتْ وَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحْ فَقُلْتُ تھا کہ مسجد میں ہی بنی اوس اور بنی خزرج کی آپس أَيْ أُمِّ تَسْبِينَ ابْنَكِ وَسَكَتَتْ ۔ ثُمَّ میں لڑائی ہو جاتی (حضرت عائشہ فرماتی ہیں) اور عَشَرَتِ الثَّانِيَةَ فَقَالَتْ تَعِسَ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ جب اس دن شام ہوئی میں اپنی کسی حاجت کے لئے باہر گئی اور میرے مِسْطَحْ فَقُلْتُ لَهَا تَسْمِّينَ ابْنَكِ ساتھ مسطح کی ماں تھی اس نے ٹھو کر کھائی اور کہنے ثُمَّ عَشَرَتِ الثَّالِثَةَ فَقَالَتْ تَعَسَ گئی : مسطح کا ستیاناس ہو۔ میں نے کہا: اماں تم اپنے مِسْطَحْ فَانْتَهَرْتُهَا فَقَالَتْ وَاللهِ مَا لئے کو برا بھلا کہتی ہو۔ اس پر وہ خاموش ہو گئی پھر أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ۔ فَقُلْتُ فِي أَيِّ شَأْنِي اس نے دوسری بار ٹھو کر کھائی اور کہنے لگی: مسطح کا قَالَتْ فَبَقَرَتْ لِي الْحَدِيثَ فَقُلْتُ ستیاناس ہو، میں نے اُس سے کہا: اماں تم اپنے وَقَدْ كَانَ هَذَا قَالَتْ نَعَمْ وَاللهِ بیٹے کو برا بھلا کہتی ہو۔ پھر اس نے تیسری بار ٹھو کر فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي كَأَنَّ الَّذِي کھائی اور کہنے لگی: مسطح کا ستیا ناس ہو۔ میں نے اسے جھڑ کا۔ وہ کہنے لگی: بخدا میں تمہاری ہی وجہ خَرَجْتُ لَهُ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا سے اس کو گالی دیتی ہوں۔ میں نے پوچھا: میرے كَثِيرًا وَ وَعِكْتُ فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ لئے کس وجہ وجہ سے ؟ حضرت عائشہ نے کہا: مسطح کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْنِي ماں نے سارا قصہ مجھ سے کھول کر بیان کیا۔ میں إِلَى بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ نے کہا: کیا حقیقت میں یہ بات ہوئی ہے؟ کہنے لگی: فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَوَجَدْتُ أُمَّ رُومَانَ ہاں اللہ کی قسم۔ یہ سن کر میں اپنے گھر کو واپس ہو