صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 1 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 1

صحيح البخاری جلد f ١٩ - كهيعص ۶۵ کتاب التفسير / كهيعص قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أَبْصِرْ بِهِمْ وَأَسْمِعْ - حضرت ابن عباس نے کہا: اسمع بِهِمْ وَأَبْصِرُ اللهُ يَقُولُهُ وَهُمُ الْيَوْمَ لَا يَسْمَعُونَ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ آج نہیں سنتے وَلَا يُبْصِرُونَ، فِي ضَلالٍ مُّبِينٍ (مریم:۳۹) اور نہ دیکھتے ہیں، في ضَللٍ مُّبِينٍ کے معنی ہیں کہ يَعْنِي قَوْلَهُ: أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرُ (مريم : ٣٩) وہ کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔اس قول اس یخ : الْكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَيْءٍ وَأَبْصَرُهُ بِهم وانصر کے معنی یہ ہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ کفار خوب سنیں گے اور دیکھیں گے۔لارجمتك (مريم : ٤٧) لَأَشْتِمَنَّكَ وَرِيَّا لانجمنك سے مراد ہے کہ میں تجھے برا بھلا کہوں (مريم : ٧٥) مَنْظَرًا { وَقَالَ أَبُو وَائِل گا۔اور لفظ رفیا کے معنی ہیں: دیکھنے میں۔اور عَلِمَتْ مَرْيَمُ أَنَّ التَّقِيَّ ذُونُهْيَةٍ حَتَّى ابووائل نے کہا کہ حضرت مریم کو علم تھا کہ متقی قَالَتْ إِلى أَعُوذُ بِالرَّحْمنِ مِنْكَ إِن كُنتَ ( بدی کے ارتکاب سے) رکتا ہے اس لئے انہوں تَقِيَّ (مريم: ١٩) وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ تَؤُزُهُمُ نے کہا: میں تجھ سے رحمن کی پناہ چاہتی ہوں اگر تو آزا(مریم: ٨٤) تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي متقی ہے۔اور ابن عیینہ نے کہا: توذُهُمْ أَذًا کے إِزْعَاجًا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِذًا (مریم: ۹۰) معنی ہیں کہ انہیں معصیت پر اُکساتے ہیں۔اور عِوَجًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ وِرُدًا (مریم : ۸۷) مجاہد نے کہا: اڈا کے معنی ہیں ٹیڑھا، (یعنی بہت ہی ٹیڑھی بات ) حضرت ابن عباس نے کہا: وردا کے معنی ہیں: پیاسے، آنانا کے معنی مال و دولت کے ہیں۔اڈا کے معنی ہیں بہت بڑا بول۔رگزا صَوْتًا غَيّا ( مريم : ٦٠ خُسْرَانًا۔بُكِيًّا کے معنی ہیں آواز (بھنک اور آہٹ) غیا (مريم : ٥٩) جَمَاعَةُ بَاكِ صِلِيَّا (مریم:۷۱) کے معنی ہیں گھاٹا۔بکا، بَاكِ کی جمع ہے صَلِيَ يَصْلَى۔نَدِيَّا (مريم : ٧٤) وَالنَّادِي (یعنی رونے والے) صِلِيَّا: صَلِيَ يَصْلَى سے ہے ٩٠) عِطَاشًا۔آثَانًا (مريم : ٧٥) مَالًا۔إِذَا۔(مریم : ٩٠) قَوْلًا عَظِيمًا۔ركزا (مريم : ٩٩) 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اسمع بهم وابصر کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۴۲) الفاظ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ عَلِمَتْ مَریمُ۔۔فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۴۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔