صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 1
صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص ١٩ - كهيعص قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَبْصِرْ بِهِمْ وَأَسْمِعْ ! حضرت ابن عباس نے کہا: اسْمِعُ بِهِمْ وَ أَبْصِرُ اللهُ يَقُولُهُ وَهُمُ الْيَوْمَ لَا يَسْمَعُونَ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ آج نہیں سنتے وَلَا يُبْصِرُونَ ، فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ (مريم : ٣٩) اور نہ دیکھتے ہیں، فِي ضَلَلٍ مُّبِین کے معنی ہیں کہ وہ کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ اس قول اسمع يَعْنِي قَوْلَهُ : أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرُ (مريم : ٣٩) میں تجھے برا بھلا کہوں وقت آئے الْكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَيْءٍ وَأَبْصَرُهُ بِهِمْ وَأَبْصِرُ کے معنی یہ ہیں کہ ایک وقت گا کہ کفار خوب سنیں گے اور دیکھیں گے۔ لَا رَجُمَنَّكَ (مريم : ٤٧ ) لا يم: ٤٧) لَأُشْتِمَنَّكَ ۔ وَرِيًّا لَأَرْجُمَنَّكَ سے مراد ہے کہ میں۔ (مریم: ٧٥) مَنْظَرًا { وَقَالَ أَبُو وَائِل گا۔ اور لفظ رویا کے معنی ہیں: دیکھنے میں۔ اور عَلِمَتْ مَرْيَمُ أَنَّ التَّقِيَّ ذُونُهْيَةٍ حَتَّى ابو وائل نے کہا کہ حضرت مریم کو علم تھا کہ متقی قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ ( بدی کے ارتکاب سے) رکتا ہے اس لئے اُنہوں تَقِيًّا (مريم: ۱۹} وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ تَؤُزُهُمُ نے کہا: میں تجھ سے رحمن کی پناہ چاہتی ہوں اگر تو آنا (مریم: ٨٤) تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي متقی ہے۔ اور ابن عیینہ نے کہا: تودُّهُمْ أَنَّا کے إِزْعَاجًا۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِذًا (مریم : ۹۰) معنی ہیں کہ انہیں معصیت پر اُکساتے ہیں۔ اور عِوَجًا ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وِردا (مریم: ۸۷ مجاہد نے کہا: اذا کے معنی ہیں ٹیڑھا، (یعنی بہت ہی ٹیڑھی بات) حضرت ابن عباس نے کہا: وردا عِطَاشًا أَثَاثًا (مريم : ٧٥) مَالًا ۔ إِذَا کے معنی ہیں: پیاسے، آثاثا کے معنی مال و دولت (مريم : ٩٠) قَوْلًا عَظِيمًا ۔ رِكْزًا (مريم : (۹۹) کے ہیں۔ ادا کے معنی ہیں بہت بڑا بول۔ رِکزا صَوْتًا غَيًّا (مريم : (٦) خُسْرَانًا ۔ بُكِيًّا کے معنی ہیں آواز (بھنگ اور آہٹ ) غَيًّا (مريم : ٥٩) جَمَاعَةُ بَاكِ صِلِيًّا (مریم: ۷۱) کے معنی ہیں گھاٹا۔ بکيا، بال کی جمع ہے صَلِيَ يَصْلَى ۔ نَدِيَّا (مريم : ٧٤) وَالنَّادِي (یعنی رونے والے) صِلِيَّا: صَلِيَ يَصْلَی سے ہے 1۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اسمعْ بِهِمْ وَابْصِرُ کے الفاظ ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۴۲) الفاظ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ عَلِمَتْ مَريم فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۴۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔