صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 94 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 94

-۲۵ - كتاب التفسير / النور صحيح البخاری جلد هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِى مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِى تَوَلَّى كَبْرَةُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( النور : ١٢) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔آیت کا ترجمہ یہ ہے۔یقیناوہ لوگ جنہوں نے یہ بہتان باندھا ہے تم میں سے ایک گروہ ہے تم اسے اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتری کا موجب ہے (کہ اس کے ذریعے سے احکام نازل ہو کر شریعت پائیہ تکمیل کو پہنچی ) ان میں سے ہر شخص کے لئے جو گناہ اس نے کمایا اس کی سزا ملے گی اور جو اُن میں سے بڑے حصے کا متولی ہوا، اُس کے لئے بہت بڑی سزا مقدر ہے۔اس آیت سے باب نمبر ۵ قائم کر کے بتایا گیا ہے کہ وہ کون شخص تھا جس نے اس بہتان میں بڑا حصہ لیا۔امام بخاری نے اس بہتان کے تعلق میں سورۃ النور کی متعلقہ آیات کی شرح بیان کرنے کے لئے الگ الگ آیات سے عنوان قائم کئے ہیں اور ہر عنوان کے تحت کوئی نہ کوئی روایت نقل کر کے آیت کا مفہوم واضح کیا ہے۔بَاب : وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسكُم فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( النور : ١٥) (اللہ تعالی کا فرمانا:) اور اگر اللہ کا فضل اور رحمت دنیا و آخرت میں تم پر نہ ہوتی تو تمہیں اس بات کی وجہ سے جس میں تم پڑ گئے بہت بڑی سزا پہنچتی۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَلَقَّوْنَة (النور : ١٦) اور مجاہد نے کہا: تَلَقَّوْنَهُ کے معنی ہیں ایک دوسرے يَرْوِيهِ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ تُفِيضُونَ سے بات سن کر نقل کرنے لگے۔تُفِيضُونَ کے (يونس: ٦٢) تَقُولُونَ۔معنی ہیں کہ تم کہتے تھے۔٤٧٥١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۴۷۵۱: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي سليمان بن کثیر نے ہمیں بتایا، انہوں نے حصین وَائِلٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ أُمَ رُومَانَ أُمّ بن عبد الرحمن سے چھین نے ابو وائل سے، ابو وائل عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا رُمِيَتْ عَائِشَةُ نے مسروق سے ، مسروق نے حضرت عائشہ کی ماں خَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا۔أطرافه : ۳۳۸۸، ٤١٤٣، ٤٦٩١- حضرت اقم رومان سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں جب عائشہ متہم کی گئیں تو بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔