صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 95
صحیح البخاری جلد ۹۵ -۲۵ کتاب التفسير / النور بَاب : إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِالْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيْنا وَهُوَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمٌ ( النور : ١٦) (تمہیں سزا اس لئے ملتی کہ) تم آپس میں ایک دوسرے کی زبان سے یہ جھوٹ سن کر قبول کرتے اور آگے پہنچاتے تھے اور اپنے مونہوں سے ایسی بات کہتے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا اور تم اسے معمولی بات سمجھتے تھے بحالیکہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی۔٤٧٥٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۷۵۲ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ہشام نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ان کو خبر دی قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ کہ ابوملیکہ کے بیٹے نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ کو یہ آیت یوں پڑھتے سنا: إِذْ تَلِقُونَهُ تَقْرَأُ إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ۔طرفه: ٤١٤٤۔بِأَلْسِنَتِكُمْ یعنی جب تم اپنی زبانوں سے یہ بات گھڑتے تھے۔مريح : إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِافواهِكُم : اوپر قرارت کی مختلف صورتیں بیان کی ریح: جاچکی ہیں اعادے کی ضرورت نہیں۔مجاہد کے حوالے سے تَلَقَّوْنَہ اور تُفِيضُونَ کا مفہوم بتایا گیا ہے۔لفظ تَلَقَّوْنَ کی قراءت کے بارے میں اختلاف ہوا ہے۔مشہور قراءت تو یہی ہے جو ابو عبیدہ سے بالجزم مروی ہے اور ان کے سوا بعض ( یعنی حضرت ابن مسعود) نے تَتَلَقَّوْنَهُ پڑھا ہے اور حضرت عائشہ کی طرف تَلِقُونَهُ کی قراءت منسوب کی گئی ہے جو ولق سے مشتق ہے۔یعنی بمعنی جھوٹ۔فراء ادیب کا قول ہے کہ ولق کے معنی ہیں جھوٹ پر اصرار اور جو شخص ہمیشہ جھوٹ بولے اسے آلق کہتے ہیں۔خلیل ادیب کے نزدیک ولق کے معنی ہیں جلد بازی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۱۲) حضرت عائشہ کی قراءت کا ذکر غزوہ مریسیع میں گزر چکا ہے۔(دیکھئے بخاری، كتاب المغازی، باب حديث الافك، روایت نمبر ۴۱۴۴) آیت کا سیاق کلام واضح ہے اور دونوں قراء توں کی رو سے مفہوم یہی ہے کہ تم بغیر سوچے سمجھے سنی سنائی بات کو سچا سمجھ کر آگے پہنچانے کے لئے جلدی سے تیار ہو جاتے ہو اور ایسی مخرب الاخلاق باتوں کی اشاعت کرتے ہو جو جائز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ گناہ ہے اور حکومت کے فرائض میں سے ہے کہ اس قسم کی فحش اشاعت کی روک تھام کرے اور سزا دے۔