صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 92
صحیح البخاری جلد ۹۲ ۶۵ - كتاب التفسير / النور مسطرة اللهُ فِي بَرَاءَتِي قَالَ أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقُ وہ مصلح بن اثاثہ کو اپنے رشتہ دار اور محتاج ہونے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَی کی وجہ سے خرچ دیا دیا کرتے تھے بخدا میں تو مسطح کو کبھی کچھ خرچ نہیں دوں گا بعد اس بات کے جو مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ اس نے عائشہ کی نسبت کہی ہے۔ تو اللہ نے یہ وحی وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا نازل کی وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ یعنی اور بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ تم میں سے جو اہل فضل ہیں اور کشائش رکھتے ہیں فَأَنْزَلَ اللهُ وَ لَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبى کرنے والوں سے نیک سلوک میں کو تاہی نہ کریں، وَ الْمَسْكِينَ وَالْمُهْجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر سے کام لیں۔ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَعُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے قصوروں يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ جدید دو پر پردہ پوشی فرمائے اور تمہیں معاف کرے اور اللہ ه غفور رحيم بہت ہی پردہ پوش اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ (النور: ٢٣) قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى وَاللَّهِ حضرت ابو بکر نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم ! میں پسند إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ کرتا ہوں کہ اللہ میری غلطیوں کی پردہ پوشی إِلَى {مِسْطَحٍ } النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ فرمائے اور ئے اور مجھ سے درگزر فرمائے اور انہوں نے يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ وَاللهِ لَا أَنْزِعُهَا صطح کو وہی خرچ دینا شروع کر دیا جو وہ اسے دیا مِنْهُ أَبَدًا ۔ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ کرتے تھے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں اس رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خرچ کو اس سے بھی نہیں چھینوں گا۔ حضرت الترسل اور رسول اللہ صلی اللہ یکم جحش کی بیٹی عائشہ کہتی تھیں يَسْأَلُ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي زینب سے میرے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ فَقَالَ يَا زَيْنَبُ مَاذَا عَلِمْتِ أَوْ فرماتے تھے: زینب! تمہیں کیا علم ہے؟ یا فرماتے: رَأَيْتِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَحْمِي تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو وہ کہتی یا رسول الله ! سَمْعِي وَبَصَرِي، مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا۔ میں اپنے کان اور آنکھ محفوظ رکھتی ہوں، سوائے ا یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۷۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔