صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 92
صحيح البخاری جلد ۹۲ -۲۵ کتاب التفسير / النور اللَّهُ فِي بَرَاءَتِي قَالَ أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقُ و مسطح بین اثاثہ کو اپنے رشتہ دار اور محتاج ہونے اللهُ عَنْهُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى کی وجہ سے خرچ دیا کرتے تھے بخدا میں تو مسطح رَضِيَ مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ کو کبھی کچھ خرچ نہیں دوں گا بعد اس بات کے جو ط اس نے عائشہ کی نسبت کہی ہے۔تو اللہ نے یہ وحی وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا نازل کی وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ یعنی اور بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ تم میں سے جو اہل فضل ہیں اور کشائش رکھتے ہیں ہیں فَأَنْزَلَ اللهُ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أولى القُربى کرنے والوں سے نیک سلوک میں کو تاہی نہ کریں، وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهَجِرِينَ فِي سَبِيلِ الله چاہیے کہ معاف کریں اور در گزر سے کام لیں۔وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ آن کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے قصوروں پر پردہ پوشی فرمائے اور تمہیں معاف کرے اور اللہ تَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 0 بہت ہی پردہ پوش اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔(النور: ٢٣) قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى وَاللهِ حضرت ابو بکر نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں پسند إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لِي فَرَجَعَ کرتا ہوں کہ اللہ میری غلطیوں کی پردہ پوشی إِلَى {مِسْطَحِ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ فرمائے اور مجھ سے درگزر فرمائے اور انہوں نے يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ وَاللهِ لَا أَنْزِعُهَا مسطح کو وہی خرچ دینا شروع کر دیا جو وہ اسے دیا مِنْهُ أَبَدًا۔قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ کرتے تھے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں اس رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خرچ کو اس سے بھی نہیں چھینوں گا۔حضرت عائشہ کہتی تھیں اور رسول اللہ صلی ا لم بحش کی بیٹی يَسْأَلُ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي زینب سے میرے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔فَقَالَ يَا زَيْنَبُ مَاذَا عَلِمْتِ أَوْ فرماتے تھے: زینب ! تمہیں کیا علم ہے؟ یا فرماتے: رَأَيْتِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَحْمِي تمہاری کیا رائے ہے؟ تو وہ کہتی یا رسول الله ! سَمْعِي وَبَصَرِي مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا۔میں اپنے کان اور آنکھ محفوظ رکھتی ہوں، سوائے یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۷۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔