صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 77 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 77

صحیح البخاری جلد ۱۰ نے کے ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة ٤٥٢١ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي ۴۵۲۱: محمد بن ابی بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ فضیل بَكْرٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہم حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِی سے بیان کیا کہ کریب نے مجھے بتایا۔انہوں نے كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ يَطَّوَفٌ حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے الرَّجُلُ بِالْبَيْتِ مَا كَانَ حَلَالًا حَتَّى کہا: آدمی جب تک بغیر احرام ہو یعنی جب تک حج کی لبیک نہ پکارے بیت اللہ کا طواف کرتار ہے اور يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَإِذَا رَكِبَ إِلَى عَرَفَةَ جب سوار ہو کر عرفات کو جائے پھر جس کو قربانی فَمَنْ تَيَسَّرَ لَهُ هَدِيَّةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ میسر ہو ، اونٹوں سے یا گائے بیل سے یا بکریوں الْبَقَر أَوِ الْغَنَمِ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ ذَلِكَ سے جو بھی اس کو میسر ہو اور جسے چاہے اس کی أَيَّ ذَلِكَ شَاءَ غَيْرَ إِنْ لَّمْ يَتَيَسَّرْ لَهُ قربانی کر دے۔لیکن اگر اس کو میسر نہ ہو تو اس فَعَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فِي الْحَجَ وَذَلِكَ کو تین روزے حج میں رکھنے چاہئیں اور یہ عرفات قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنْ كَانَ آخِرُ يَوْمِ کے دن سے پہلے ہیں۔اور اگر ان تین روزوں میں مِنَ الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلَا سے آخری روزہ عرفات کے دن ہو تب بھی اس جُنَاحَ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيَنْطَلِقْ حَتَّى يَقِف پر کوئی حرج نہیں۔پھر (مکہ سے) چل دے اور بِعَرَفَاتٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ اگر عرفات میں عصر کی نماز سے لے کر اس وقت تک کہ اندھیرا ہو جائے ٹھہرے، پھر چاہئے کہ لوگ عرفات سے لوٹیں۔پھر جب وہ وہاں سے لوٹ پڑیں یہاں تک کہ مزدلفہ میں پہنچ جائیں يَكُونَ الظَّلَامُ ثُمَّ لِيَدْفَعُوا مِنْ عَرَفَاتٍ فَإِذَا أَفَاضُوا مِنْهَا حَتَّى يَبْلُغُوا جَمْعًا الَّذِي يَتَبَرَّرُ فِيْهِ ثُمَّ جہاں وہ رات گزارتے ہیں۔پھر چاہیئے کہ وہ لِيَذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا أَوْ أَكْثِرُوا التَّكْبِيرَ ذکر الہی میں بہت مشغول رہیں۔یا (کہا :) تم صبح وَالتَّهْلِيلَ قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ثُمَّ ہونے سے پہلے تکبیر اور تہلیل کثرت سے کرو۔أَفِيضُوا فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يُفِيضُونَ پھر وہاں سے لوٹو۔کیونکہ لوگ وہیں سے وَقَالَ اللهُ تَعَالَى ثُمَّ اَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ لوٹتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے: اور أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ اِنَّ الله جہاں سے لوگ (واپس) لوٹتے رہے ہیں وہاں 1 عمدۃ القاری میں یہاں ”یبیتُونَ بِهِ" کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۱۱۳)