صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 76
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة کے قریب قائم کی جاتی تھی۔(فتح الباری کتاب الحج، باب ۱۵۰، جزء۳ صفحه ۷۴۹، ۷۵۰) صحابہ کرام مطلق تجارت جائز سمجھتے تھے۔مگر حج کے ایام میں بحالت احرام ان کے نزدیک تجارت کرنا حج کے منافی تھا۔اس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ بحالت احرام صحابہ کرائم کا یہ احساس درست تھا۔مگر حج سے فراغت پانے اور حج کے مہینہ میں تجارتی کاروبار سے اجتناب سابقہ عقیدے کی بناء پر درست نہیں تھا، جس کی اصلاح کی گئی۔روایت زیر باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے آخر میں في مواسم الحج ہے۔یہ الفاظ آیت کا حصہ نہیں بلکہ تفسیر ہے۔( فتح البارى، كتاب الحج، باب ۱۵۰، جزء۳ صفحه ۷۵۰) خلاصہ یہ کہ اس قسم کے تمام مشرکانہ رسم رواج کا اسلام نے قلع قمع کیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اسوہ حسنہ کی برکت سے نفوس میں خارق عادت تبدیلی ہوئی اور تقویٰ و طہارت کے بارہ میں عربوں کا شعور و احساس لطیف ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوت قدسیہ سے عربوں میں اس درجہ تبدیلی کی کہ آپ کا اعجاز از خود نمایاں ہو جاتا ہے۔بَاب ٣٥ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ (البقرة : ٢٠٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) تم بھی اسی جگہ سے لوٹ کر آیا کرو جہاں سے لوگ لوٹیں ٤٥٢٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۵۲۰ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ محمد بن حازم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام ( بن عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عروہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، كَانَتْ قُرَيْسٌ وَمَنْ دَانَ دِيْنَهَا ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ روایت کی کہ قریش اور جو اُن کے طریقہ پر چلتے الْحُمْسَ وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ تھے مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور ان لوگوں کو بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللهُ حُمس (یعنی دین کے پکے ) کہا کرتے تھے اور باقی نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ تمام عرب عرفات میں (جاکر) ٹھہرا کرتے عَرَفَاتٍ ثُمَّ يَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا تھے۔جب اسلام آیا تو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ثُمَّ أَفِيُضُوا مِنْ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں آئیں اور پھر وہاں ٹھہریں اور پھر وہاں سے لوٹ کر آئیں۔یہی حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ۔طرفه: ١٦٦٥- (البقرة: ۲۰۰) مراد ہے، اللہ تعالیٰ کے اس قول سے : تم بھی اسی جگہ سے لوٹ کر آیا کرو جہاں سے لوگ لوٹیں۔