صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 78
صحیح البخاری جلد ۱۰ دو ۷۸ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة: ٢٠٠) حَتَّی سے تم بھی (واپس) لوٹو۔ اور اللہ سے مغفرت تَرْمُوا الْجَمْرَةَ۔ طلب کرو۔ اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ یعنی رمی جمار تک (استغفار میں مشغول رہو ۔) تشريح : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ : وقوف عرفات مناسک حج میں سے ایک ضروری رکن ہے۔ مکہ مکرمہ سے جنوب مشرق کی سمت میں طائف کے راستے پر تقریبا نو میل اور منی سے چھ میل کے فاصلے پر ایک وسیع میدان ہے جو عرفات کے نام سے مشہور ہے۔ جہاں نویں ذوالج کو حاجی جمع ہوتے ہیں۔ یہاں سب حاجیوں کا پہنچنا ضروری ہے۔ اگر کوئی حاجی نہیں جاتا تو اس کا حج ناقص ہو گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی اس بارہ میں تاکید فرمائی۔ اس تاکید کی وجہ یہ تھی کہ قریش اور وہ قبائل جن سے عائلی، نسلی اور مذہبی تعلقات و معاہدات تھے۔ یعنی بنو خزاعہ ، بنو کنانہ، بنو عامر بن صعصعہ ، ثقیف اور لیث بن بکر وغیرہ حج کے وقت حرم مکہ سے باہر جانا ناجائز سمجھتے تھے۔ (عمدۃ القاری، جزء • اصفحہ ۳) کیونکہ قریش اور مذکورہ بالا قبائل اپنے آپ کو بیت اللہ کا محافظ سمجھتے تھے۔ مکہ مکرمہ پر ایک زمانہ ایسا آیا کہ فقر و فاقہ کی وجہ سے یہ غیر آباد ہو گیا۔ قصی بن کلاب پہلے شخص تھے جنہوں نے متفرق قبائل کو جمع کیا اور مکہ مکرمہ میں انہیں دوبارہ آباد کیا اور اسی وجہ سے ان کا نام قریش ہوا۔ یعنی پراگندگی کے بعد جمع شده (عمدۃ القاری، جزء ۱۶ صفحه (۷۳) مزید تفصیل کیلئے دیکھئے تفسیر کبیر تفسير سورة القريش، جلد ۱۰ صفحه ۹۴ تا ۱۱۲۔ مزدلفہ حرم مکہ میں شامل ہے۔ عرفات کا علاقہ اس سے باہر ہے۔ اس لئے مزدلفہ ہی سے قریش لوٹ آتے تھے۔ جبکہ دوسرے لوگ مقام عرفات میں جا کر باقی ماندہ مناسک پورے کرتے۔ قریش اپنے آپ کو شمس کہتے تھے اور دوسروں کو ”احله “۔ یعنی وہ لوگ جن کو بوقت احرام حرم سے باہر جانا جائز ہے۔ حمس لفظ حماسة سے افعل تفعیل ہے۔ یعنی نہایت جوشیلے بمعنی متعصب اور اپنے لئے اس امر کو بطور امتیاز خاص گردانتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اسلامی مساوات کی روح کے خلاف پاکر ارشاد فرمایا: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ (البقرة: ۲۰۰) یعنی تم وہاں ۔ وہاں سے لو تو جہاں سے لوگ لوٹیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور یقینا وہ غفور ورحیم ہے۔ اس ارشاد باری تعالیٰ سے ظاہر ہے کہ عبادت حج کی علت غائی تزکیہ نفس ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ان خمس نے کچھ بدعتیں جاری کر رکھی تھیں۔ مثلاً ان کی عورتوں کو بحالت احرام حج کے ایام میں کا تنا، بُغنا، دودھ بلونا، پنیر بنانا اور گھی استعمال کرنا منع تھا۔ بحالت احرام گھروں میں بھی داخل نہیں ہوتے تھے اور ایام حج میں خیمے استعمال کرتے، خصوصاً چڑے کے۔ (عمدۃ القاری شرح کتاب الحج، جزء ۱۰ صفحه ۳) ایسی قدیم رسوم کے پیش نظر کتاب الحج میں بعض ابواب بھی قائم کئے گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے ہاتھ سے