صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 74
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة تَمَتَعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَج (البقرة: ۱۹۷) سے یہ سمجھا گیا ہے کہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کی پابندی سے آزادی حاصل کر کے حلال باتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور اس کے بعد حج کے لئے احرام باندھا جائے۔حضرت عمرؓ نے اس بات سے روکا اور فرمایا کہ تمتع اصل میں یہ ہے کہ حج کے ایام میں حج اور عمرہ دونوں ایک ہی احرام سے کئے جائیں اور یہ صورت قران کی ہے۔قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ : اس سے مراد حضرت عمر ہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے روکا تھا۔فتح الباری شرح کتاب الحج، باب ۳۶، جزء ۳ صفحہ ۵۴۶) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمتع میں نامناسب صورت پیدا ہو جانے پر حضرت عمرؓ کو روکنا پڑا۔نص صریح فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَج (البقرة: ۱۹۷) اور ارشاد وَ آتِمُوا الْحَجَّ والْعُمْرَةَ (البقرة: ۱۹۷) نیز سنت نبویہ کے پیش نظر حضرت عمر نے ایسا فرمایا تھا، لیکن بعض حالات میں انسان کو مکہ مکرمہ میں حج شروع ہونے سے قبل جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں اپنے تعلقات یا کاروبار کی وجہ سے ٹھہر نا پڑتا ہے۔ایسی صورت میں دیر تک بحالت احرام رہنا موجب تکلیف تھا۔اس لئے افراد کی صورت سے فائدہ اُٹھایا گیا۔باب ٣٤: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمُ (البقرة: ١٩٩) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) تمہارے لئے ( یہ ) کوئی گناہ (کی بات) نہیں کہ (حج کے ایام میں ) تم اپنے رب کے کسی فضل کی جستجو کر لو ٤٥١٩ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ قَالَ :۴۵۱۹: محمد بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنِ کیا۔انہوں نے کہا: (سفیان بن عیینہ نے مجھ سے ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ کہا: انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت ابن عباس كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَأَتَّمُوْا أَنْ عكاظ، مجنہ اور ذوالحجاز زمانہ جاہلیت میں منڈیاں يَتَّجِرُوا فِي الْمَوَاسِم فَنَزَلَتْ لَيْسَ ہوا کرتی تھیں۔مسلمانوں نے گناہ سمجھا کہ وہ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ (حج کے) موسموں میں تجارت کریں۔پھر یہ آیت نازل ہوئی: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے ربِّكُمُ (البقرة: ١٩٩) فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔رب کے فضل کی جستجو کرو، یعنی حج کے ایام میں۔اطرافه ۱۷۷۰، ۲۰۵۰، ۲۰۹۸ - تشریح: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمُ : مشرکین عرب کے نزدیک بیت اللہ کا حج بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔جیسا کہ قدیم تاریخ عرب اور قدیم شعراء کے کلام کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے۔بیت اللہ کا طواف، عرفات کا قیام، منی میں قربانی وغیرہ سب ان میں موجود تھیں۔لیکن