صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 73
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۷۳ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة کے لحاظ سے ہے۔یعنی اگر کوئی شخص غریب ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔اگر متوسط درجہ کا ہو تو چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے اور اگر مالدار ہو تو قربانی دے دے۔بہر حال قربانی مقدم ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے اور اس کے بعد روزے ہیں، اور یہ ترتیب درجہ کی بلندی کے لحاظ سے ہے۔یعنی ادنی فدیہ یہ ہے کہ تین دن کے روزے رکھے۔اس سے اعلیٰ فدیہ یہ ہے کہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اس سے اعلیٰ فدیہ یہ ہے کہ ایک قربانی دے دے۔“ ( تفسير كبير ، تفسير سورة البقرة آیت ۱۹۷، جلد ۲ صفحه ۴۳۴) بَاب ٣٣: فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَقِّ (البقرة: ١٩٧) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) جس نے عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر فائدہ اُٹھایا ٤٥١٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۴۵۱۸ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی ( بن يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ ابو بکر عمران سے أَبُو رَجَاءِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ روایت ہے۔ابور جاء نے ہم سے بیان کیا۔انہوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَتْ آيَةُ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفَعَلْنَاهَا روایت کی۔کہتے تھے: تمتع کی آیت (یعنی عمرہ کو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ حج کے ساتھ ادا کرنے ) کا حکم کتاب اللہ میں نازل يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَلَمْ يُنْهَ عَنْهَا ہوا اور ہم نے یہ تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا اور اس کے بعد قرآن میں کوئی (ایسا ) حکم حَتَّى مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ۔نہیں نازل کیا گیا جو اس کو حرام قرادیتا ہو اور نہ آپ اطرفه: ١٥٧١- مَعَ نے اس سے روکا، یہاں تک کہ آپ فوت ہوئے۔پھر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔تشریح : فَمَن تمتع بالعمرة إلى الحج : حضرت عمر نے آیت وَايْمُوا الْحَج وَالْعُمْرَةَ (البقرة: ۱۹۷) مَتَعَ سنت نبویہ کی بناء پر قرآن کی اصل تمتع قرار دیا ہے اور تمتع کی وہ صورت جس کے اختیار کرنے کے لئے صحابہ کو حکم دیا گیا تھا، وہ ان کے نزدیک ایک وقتی ضرورت تھی۔تمتع کے معنی فائدہ اُٹھانا۔آیت فمن اور عمدۃ القاری میں اس جگہ "يَنة“ کا لفظ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۱۱۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔