صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 72
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة لَا قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ ہے۔کیا ایک بکری (ذبح کرنے ) کی استطاعت مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينِ نِصْفُ صَاعِ ہے ؟ میں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: تین مِنْ طَعَامِ وَاخْلِقْ رَأْسَكَ فَنَزَلَتْ فِيٌّ روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ہر لو یا مسکین کو آدھا صاع اناج دو اور اپنے سر کو منڈواؤ۔خَاصَّةً وَهْيَ لَكُمْ عَامَّةً۔اطرافه ۱۸۱٤ ، ۱۸۱۵، ۸۱۶ تو یہ آیت میرے متعلق خاص کر نازل ہوئی اور تمہارے لئے عام ہے۔-٤١٥ ، ٤١٩٠، ٤١٩١، ٥٦٦٥، ٥٧٠٣، ٦٧٠٨۹ ،۱۸۱۸ ، ريح : فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ بِهَ أَذَى من رأْسه: بعض ائمہ اس طرف گئے ہیں کہ روزے بطور فدیہ مقدم ہیں۔(فتح الباری کتاب المحصر شرح باب ۶، جزء۴ صفحه ۲۱) حدیث مذکورہ سے ظاہر ہے کہ بیماری کی وجہ سے احرام کھولا ہو تو حسب استطاعت صورت اختیار کی جائے گی۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اگر کوئی شخص تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو جس کی وجہ سے اُسے سر منڈوانا پڑے۔جیسے اس کے سر میں جوئیں پڑ جائیں یا پھوڑے نکل آئیں تو وہ سر منڈوا سکتا ہے۔مگر اس صورت میں اسے صیام یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا پڑے گا۔قرآن کریم نے فدیہ کی تینوں اقسام کو غیر معین رکھا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے اس کی تعیین ہو جاتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ کعب بن عجرہ ایک صحابی تھے ، ان کے سر میں جوئیں پڑ گئیں، اور ان کی اتنی کثرت ہو گئی کہ جو میں ان کے منہ پر گرتی تھیں۔وہ کہتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: اے کعب ! تجھے ان جو ؤں کی وجہ سے بہت تکلیف ہے، تو سر منڈوادے اور صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمُ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَائِد - تو فدیہ کے طور پر تین دن کے روزے رکھ لے، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے، یا ایک بکری کی قربانی دے دے۔میرے نزدیک اس آیت میں جو فدیہ کی ترتیب ہے وہ امارت اور غربت (بخاری، کتاب المحصر ، باب ۵، روایت نمبر ۱۸۱۴)