صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 71 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 71

حيح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة شریح : وَ أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُم إِلَى التَّهْلُكَةِ : التَهْلَكَة اور الْهَلَاكُ دونوں مصدر ہیں اور ان کا معنی ایک ہے۔یہ قول ابو عبید کا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۳۲) مصادر میں حروف کی قلت یا کثرت معنوں میں مناسب تبدیلی پیدا کرتی ہے۔روایت زیر باب سے آیت کا مفہوم واضح کیا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ سے تم اپنا ہی بھلا کرو گے۔دوسرے حصہ آیت سے مزید تاکید ہے کہ اگر خرچ نہ کیا تو اپنے آپ کو ہلاک کرو گے جس سے منع فرمایا۔امام ابن حجر نے صحابہ کے اقوال کا حوالہ دے کر آیت کا یہی مفہوم واضح کیا ہے، جو سیاق کلام کے لحاظ سے درست ہے۔جن لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ بوقت مقابلہ یا انفاق خطرے میں نہ ڈالو۔جیسا کہ کسی نے کیا۔رَمَى بِنَفْسِهِ فِي الْحَرْبِ فَقُتِلَ فَقَالَ نَاسُ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَهْلُكَةِ فَقَالَ عُمَرُ كَذَبُوا لَكِنَّهُ اشْتَرَى الْآخِرَةَ بِالدُّنیا۔اس نے اپنے آپ کو جنگ میں ڈالا اور مارا گیا تو لوگوں نے کہا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالا ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے ان کی تغلیط کی اور فرمایا: اس نے تو دنیا کے بدلے آخرت خرید لی۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۳۳) بَاب :۳۲: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ بِهَ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ (البقرة: ۱۹۷) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اپنے سر ( کی بیماری کی وجہ ) سے اُسے تکلیف (پہنچ رہی ہو۔۔۔٤٥١٧ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۴۵۱۷ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْفَهَانِي قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلِ قَالَ قَعَدْتُ اصفہانی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا عبد اللہ بن معقل سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ اس مسجد الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ فَسَأَلْتُهُ میں یعنی کو فہ کی مسجد میں حضرت کعب بن عجرہ کے پاس بیٹھا کرتا تھا اور میں نے اُن سے (آیت) عَنْ فِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ (البقرة: ١٩٧) فِدْيَةٌ مِنْ صِيَام سے متعلق پوچھا تھا۔انہوں فَقَالَ حُمِلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله نے کہا: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَی لے گئے اور (حالت یہ تھی کہ) جوئیں میرے منہ وَجْهِي فَقَالَ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ پر گر رہی تھیں۔آپ نے (دیکھ کر) فرمایا: میں قَدْ بَلَغَ بِكَ هَذَا أَمَا تَجِدُ شَاةَ قُلْتُ نہیں سمجھتا تھا کہ تکلیف نے تمہارا یہ حال کر دیا (مجاز القرآن لابي عبيدة، سورة البقرة، آيت وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُم إِلَى التَّهْلُكَةِ، جزء اول صفحه (۶۸)