صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 69
حيح البخاری جلد ۱۰ ۶۹ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ وَإِمَّا اور اس وقت مسلمان تھوڑے تھے اور آدمی کو يُعَذِّبُونَهُ حَتَّى كَثُرَ الْإِسْلَامُ فَلَمْ اس کے دین کی وجہ سے ابتلاء میں ڈال دیا جاتا تھا یا وہ اسے سے قتل کر دیتے یا اُسے دکھ دیتے، آخر تَكُنْ فِتْنَةٌ۔مسلمان بہت ہو گئے اور فتنہ نہ رہا۔اطرافه: ٣٧٠٤، ٤٠٦٦ ٤٥١٣، ٤٦٥٠، ٤٦٥١، ٧٠٩٥- ٤٥١٥: قَالَ فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيّ ۳۵۱۵: (حضرت عبد اللہ بن عمر سے پوچھنے والے) وَعُثْمَانَ قَالَ أَمَّا عُثْمَانُ فَكَأَنَّ اللَّهَ اِس (شخص) نے کہا: پھر حضرت علیؓ اور حضرت عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكَرِهْتُمْ أَنْ يَعْفُو عثمان کی نسبت آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں عَنْهُ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمَ رَسُولِ اللَّهِ نے کہا: حضرت عثمان جو تھے، اللہ نے ان کو معاف کر دیا اور تم جو ہو تو تم نے بُرا منایا کہ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ وَأَشَارَ ان سے درگزر کرے اور حضرت علی جو تھے تو بِيَدِهِ فَقَالَ هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے اور طرفه: ٤٦٥٠ - آپ کے داماد تھے۔اور (حضرت ابن عمرؓ نے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا، یہ اُن کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔ريح : وَقتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ بروایات زیر باب میں مذکورہ واقعہ سے آیت محولہ بالا کے غلط مفہوم کا ازالہ کیا گیا ہے۔وقتِلُوهُمْ کے حکم سے سمجھا گیا ہے کہ دو مسلم فریقین آپس میں بر سر پیکار ہوں تو اُن میں ایک کا دوسرے سے جنگ کرنا بھی جہاد فی سبیل اللہ کہلائے گا اور اس حکم کی تعمیل ہوگی، یہ درست نہیں۔آیت کا تعلق کفار کے فتنہ سے ہے جو مذہب کے بارے میں جبر و اکراہ سے کام لیتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر سے خطاب کرنے والوں نے باغیانِ عثمان سے جنگ کرنے کا سوال اُٹھایا تھا کہ یہ بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے اور جہاد مثل دیگر ارکان اسلام واجب التعمیل ہے۔مسلمانوں میں خانہ جنگی کی صورت ایسی نوعیت کی ہے جو جہاد سے مختلف ہے اور آیت قُتِلُوهُمْ حَتى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة: ۱۹۴) کا موضوع ہے۔اس جہاد سے مقصود فتنہ مٹانا ہے، تا مذ ہبی آزادی بحال ہو اور خانہ جنگی میں شریک ہو نا مترادف ہے، اپنے بھائی کے له ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔“