صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 68
صحیح البخاری جلد ۱۰ YA ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة ٤٥١٤: وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ :۴۵۱۴: اور عثمان بن صالح نے (عبد اللہ ) بن عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي فُلَانٌ وہب سے روایت کرتے ہوئے (اتنا) اور بڑھایا، انہوں نے کہا: مجھے فلاں شخص اور حیوہ بن شریح وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِي أَنَّ كَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ما نے بتایا کہ بکر بن عمر و معافری سے روایت ہے کہ بگیر بن عبد اللہ نے ان سے بیان کیا۔وہ نافع سے حَدَّثَهُ عَنْ نَّافِعِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ روایت کرتے تھے کہ ایک شخص حضرت ابن عمر عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابو عبد الرحمن ! آپ کو حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَحُجَّ عَامًا وَتَعْتَمِرَ کس بات نے آمادہ کیا ہے کہ آپ ایک سال حج عَامًا وَتَتْرُكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ کریں اور ایک سال عمرہ اور اللہ عزوجل کی راہ میں عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغْبَ اللهُ جہاد چھوڑ دیں؟ حالانکہ آپ کو خوب علم ہے کہ فِيهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الْإِسْلَامُ اللہ نے جہاد سے متعلق کیا کچھ ترغیب دی ہے۔انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسلام کی بنیاد عَلَى خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے: اللہ اور اس کے رسول پر وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ ایمان لانا، پانچ نمازیں ادا کرنا، رمضان کے وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجَ الْبَيْتِ قَالَ: يَا روزے رکھنا، زکوۃ دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔وہ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ کہنے لگا: ابو عبد الرحمن ! کیا آپ وہ نہیں سنتے جو اللہ اللهُ فِي كِتَابِهِ وَ اِنْ طَائِفَتنِ مِنَ نے اپنی کتاب میں کہا ہے: اگر مومنوں میں سے الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح فَإِن بَغَتْ اِحدُهُمَا عَلَى الأخرى کرا دو۔پھر اگر ( صلح ہو جانے کے بعد ) ان میں فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ سے کوئی ایک دوسرے پر چڑھائی کرے تو سب مل کر اس چڑھائی کرنے والے کے خلاف جنگ الله (الحجرات: ١٠) قُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة:١٩٤) قَالَ فَعَلْنَا آئے۔(نیز فرمایا ہے) ان سے لڑو یہاں تک عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ فتنہ نہ رہے۔(حضرت ابن عمرؓ نے ) کہا: ہم نے وَسَلَّمَ وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيْلًا فَكَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (یہ) کیا