صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 67 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 67

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة بَاب ٣٠ : وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ ) (البقرة: ١٩٤) ط اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ) تم اُن سے اس وقت تک لڑتے رہو کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ ہی کی خاطر ہو جائے۔اگر وہ رُک جائیں تو پھر ظالموں کے سوا کسی پر حملہ نہ کرو۔٤٥١٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۵۱۳: محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ عبد الوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ نے ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ (عمری) نے ہمیں عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عَنْهُمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ (عبد اللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ فَقَالَا إِنَّ النَّاسَ قَدْ ضَعُوا وَأَنْتَ حضرت (عبد اللہ بن زبیر کے فتنے کے وقت اُن ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى الله کے پاس دو شخص آئے، کہنے لگے: ( آپ دیکھتے ہیں جو لوگوں نے کیا ہے اور آپ حضرت عمرؓ کے فَقَالَ يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ بیٹے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایسے فَقَالَا أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي وقت میں) آپ کو نکلنے سے کیا روک ہے ؟ آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة: ١٩٤) فَقَالَ میرے بھائی کا خون حرام قرار دیا ہے۔(یہ سن قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ کر ان دونوں نے کہا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا: لِلَّهِ وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تم اس وقت تک اُن سے لڑتے رہو کہ فتنہ نہ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللهِ رہے۔حضرت ابن عمرؓ نے جواب دیا: ہم لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ نہ رہا اور دین اللہ ہی کی خاطر ہو گیا اور تم اس لئے لڑنا چاہتے ہو کہ فتنہ ہو اور دین اللہ کے سوا اوروں کی خاطر ہو جائے۔اطرافه ۳۱۳۰، ٣٦۹۸، ٣٧٠٤، ٤٠٦٦ ٤٥١٤، ٤٦٥٠، ٤٦٥١، ٧٠٩٥- ا کشمیپنی کے نسخہ کے مطابق یہاں ”صَدَعُوا“ کا لفظ ہے (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۳۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔