صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 66
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۶ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة بَاب ۲۹ : وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے گھروں میں ان کے پیچھے کی طرف سے آؤ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ بلکہ نیکی تو اس شخص کی ہے جو بدیوں سے بچا۔اور أبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور اللہ (البقرة: ١٩٠) ہی کو اپنا سپر بناؤ تا کہ تم کامیاب ہو۔) ٤٥١٢: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بنُ :۴۵۱۲ عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كَانُوا إِذَا أَحْرَمُوا فِي ابو اسحاق نے حضرت براء بن عازب) سے الْجَاهِلِيَّةِ أَتَوُا الْبَيْتَ مِنْ ظَهْرِهِ روایت کی۔انہوں نے کہا: (عرب) لوگ زمانہ أَنْزَلَ اللهُ: وَلَيْسَ الْبِرُ بِاَنْ تَأْتُوا جاہلیت میں جب احرام میں ہوتے تو گھر میں اس البيوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَن کے پچھواڑے کی طرف سے آتے۔اس لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی: نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اتَّقَى وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا طرفه: ۱۸۰۳ - گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔(البقرة: ١٩٠) بلکہ نیکی تو اس شخص کی ہے جو بدیوں سے بچا اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔تشريح : وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا البُيُوتَ مِن ظُهُورها: محولہ بالا آیت حج اور اس کے مقاصد متعلقہ کی بابت نازل ہوئی کہ ظاہر پرستی اور دینی مسائل میں غلو اور موشگافی بے حقیقت باتیں ہیں۔اصل چیز تقوی، استقامت اور حقیقی قربانی ہے۔محولہ بالا آیت کے موقع نزول کی بابت کئی ایک کمزور روایتیں ہیں، جنہیں امام بخاری نے قبول نہیں کیا۔ان کے نزدیک ایک ہی روایت نمبر ۴۵۱۲) مستند ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی عوام کے ذریعہ عربوں کے اس غلط عقیدہ کی اصلاح فرمائی کہ دروازے سے واپس آنا آداب حج کے خلاف ہے۔ہر مقصد کے حاصل کرنے کے لئے ایک صحیح اور سیدھا راستہ ہوتا ہے۔مقاصد کو اس کی صحیح راہوں سے ہی حاصل کرنا چاہیے۔اس عنوان سے بھی امام موصوف کی شریعت منہمی اور حسن انتخاب و ترتیب ظاہر ہے۔