صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 65
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة سفید دھاری سے صبح کی سفیدی اور سیاہ دھاری سے رات کی تاریکی مراد ہے۔ یعنی جب تک ان دونوں کے درمیان نمایاں فرق نظر نہ آئے سحری کھائی جاسکتی ہے۔ عام طور پر لوگ وہم سے کام لیتے ہیں اور بہت پہلے سحری کھا لیتے ہیں اور اسی طرح بوقت افطار رات کی تاریکی کا انتظار کرتے ہیں جو خلاف منشاء شریعت ہے۔ کچھ لوگوں نے الخَيْطُ سے دھاگہ سمجھا اور ان کا ذہن استعارہ کی طرف نہیں گیا۔ ان میں سے ایک حضرت عدی بن حاتم تھے۔ یہ صحابی نویں یا دسویں ہجری میں مسلمان ہوئے تھے اور بادیہ نشین قبائل میں سے تھے۔ ( فتح الباری شرح کتاب الصوم باب ۱۶، جزء ۴ صفحہ ۱۷۰) بعض شارحین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے خَيْط ابيض اور خَيْطِ أَسْوَدُ کا محاورہ اُن کے ہاں نہ ہو۔ یہ خیال درست نہیں جیسا کہ امام ابن حجر نے زمانہ جاہلیت کے قدیم عرب شاعر ابو داؤ در ایادی کا حوالہ دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خیط کا ان معنوں میں استعمال موجود تھا۔ وَلَمَّا تَبَدَّتُ لَنَا سَدُفَةٌ وَلَاحَ مِنَ الصُّبْحِ خَيْطُ أَنَارًا فتح الباری شرح کتاب الصوم، باب ۱۶ جزء ۴ صفحه ۱۷۳) سدُفَةٌ کے معنی تاریکی اور روشنی۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ (لسان العرب - سدف) یعنی جب رات میں روشنی ظاہر ہوئی اور صبح کی دھاری چمکی۔ حضرت عدی کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت محولہ بالا پہلے نازل ہو چکی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا واقعہ سن کر فرمایا: بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ یہ نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ مِنَ الْفَجْرِ کے نزول کا انتظار فرمایا کہ وحی ربانی کی تصریح کے بعد حضرت عدی کو جواب دیں۔ جیسا کہ بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ مِنَ الْفَجْرِ کا جملہ بعد میں بطور وضاحت نازل ہوا اور یہ غلط فہمی روایت نمبر ۴۵۱۱ کے الفاظ سے پیدا ہوئی ہے۔ حضرت عدی بن حاتم کی روایت سے دوباتیں واضح ہیں۔ ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فی البدیہہ تصریح ۔ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ان سے مزاحاً فرمایا: اِن وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيض ۔ (روایت نمبر ۴۵۰۹) کہ تمہارا تکیہ بہت لمبا چوڑا ہے جس نے دونوں افقوں کو اپنے نیچے لپیٹا ہوا ہے۔ بعض دوسری روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا۔ (روایت نمبر ۴۵۱۰) یعنی تمہاری گدی وسیع ہے۔ دوسری بات جو اُن کی روایت سے ظاہر ہے، وہ لفظ نزلت کے مفہوم کا تعین ہے کہ اس سے مراد تطبیق و تشریح ہے کیونکہ رمضان کے احکام کا نزول یقینی طور پر سورۃ البقرۃ میں بہت پہلے ہو چکا تھا اور صحابہ کرائم سفیدی کو دیکھ کر سحری کھانے سے رُک جاتے تھے۔ یہ خیال کہ رمضان سے متعلق آیات بعد میں نازل ہوئی ہوں گی، محققین کے نزدیک بہت ڈور کا خیال ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر نے اس خیال کی غلطی بدلائل ثابت کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۱۷۱ تا ۱۷۴)