صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 56
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۶ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میرے باپ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْسٌ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روایت ہے۔انہوں نے فرمایا: عاشورہ کا دن ایسا تھا کہ اس روز قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا روزہ رکھتے۔جب آپ مدینہ آئے آپ نے اس نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ الْفَرِيضَةَ دن روزہ رکھا اور لوگوں سے بھی فرمایا کہ وہ اس وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ دن روزہ رکھیں۔جب رمضان (کے بارے میں وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ۔حکم نازل ہوا تو رمضان فرض ہو گیا اور عاشورہ چھوڑ دیا گیا۔پھر یہ ہوتا کہ جو چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو چاہتا اس دن روزہ نہ رکھتا۔أطرافه ١٥٩٢، ۱۸۹۳، ۲۰۰۱ ، ۲۰۰۲، ۳۸۳۱، ٤٥٠۲ - تشریح: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ : مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں چار روایتیں منقول ہیں۔جن میں سے دو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، ایک حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے اور ایک حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے۔حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر کی روایات کتاب الصوم ( باب ۶۹) میں گزر چکی ہیں اور یہاں نئی سند سے دہرائی گئی ہیں۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کے لئے دیکھئے مسلم، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء - آيت كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُم (البقرة: ۱۸۴) سے بعض نے استنباط کیا ہے کہ رمضان بنی اسرائیل پر فرض تھا اور اس تعلق میں حضرت ابن عمر ہی کی مرفوع روایت نقل کی جاتی ہے کہ رمضان کے روزے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے۔۔یہ روایت ابن ابی حاتم سے ایک ایسی سند سے مروی ہے جس میں ایک راوی غیر معروف ہے۔حسن بصر کی اور سدی کا بھی یہ قول ہے اور ترمذی، شعبی اور قتادہ سے بھی ان معنوں میں اقوال نقل کئے جاتے ہیں اور بعض نے ( کما ) صرف تشبیہ سے مطلق روزے کی فرضیت مراد لی ہے نہ کہ روزے کا وقت۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴) امام بخاری کا رجحان اسی طرف ہے، جس کی تائید میں یہ باب قائم کر کے مذکورہ بالا روایتیں نقل کی گئی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کا روزہ بطور فرض نہیں رکھتے تھے کہ یہ سمجھا جائے کہ وہ رمضان کے ذریعہ سے منسوخ ہوا۔(تفسير ابن ابي حاتم ، سورة البقرة، آيت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصّيَامُ ، جزء اول صفحه ۳۰۴)