صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 57
صحیح البخاری جلد ۱۰ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۵۷ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة اخبار باب ۱۶ آیت ۲۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ساتویں مہینہ کی دسویں تاریخ کو ایک روزہ رکھنا یہود کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ بنی اسرائیل ہمیشہ یہ روزے رکھتے رہے اور انبیاء بنی اسرائیل بھی اس کی تاکید کرتے رہے۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة آیت ۱۸۴ جلد ۲ صفحه ۳۷۲) باب ٢٥ أَيَّا مَا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) چند گنتی کے دن، سو تم میں سے جو بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کے روزے رکھ لئے جائیں وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ اور وہ لوگ جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہوں مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ له ان پر فدیہ دینا ضروری ہو گا۔ ہو گا۔ یعنی ایک مسکین کو وَ أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة : ١٨٥) کھانا کھلانا، اور جس نے اپنی خوشی سے نیکی کی تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔ روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہو گا اگر تم جانتے ہو۔ وَقَالَ عَطَاءٌ يُفْطِرُ مِنَ الْمَرَضِ كُلِّهِ اور عطاء نے کہا: بیماری کی وجہ سے افطار کرے كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى۔ وَقَالَ الْحَسَنُ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور حسن (بصری) اور وَإِبْرَاهِيمُ فِي الْمُرْضِعِ وَ الْحَامِلِ إِذَا ابراہیم (بھی) نے دودھ پلانے والی اور حاملہ کی خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ وَلَدِهِمَا بابت کہا: اگر وہ اپنے یا اپنے بچے کے متعلق ڈریں تُفْطِرَانِ ثُمَّ تَقْضِيَانِ وَأَمَّا الشَّيْخُ تو افطار کریں، پھر روزے پورے کریں۔ اور جو ہو اگر وہ روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو بہت بوڑھا ہو الر وہ روزے الْكَبِيرُ إِذَا لَمْ يُطِقِ الصِّيَامَ فَقَدْ أَطْعَمَ أَنَسٌ بَعْدَ مَا كَبِرَ عَامًا أَوْ عَامَيْنِ كُلَّ (تو وہ فدیہ دے۔ چنانچہ حضرت انس جب ہو گئے ایک یا دو سال تک ہر روز ایک مسکین کو يَوْمٍ مِسْكِينًا خُبْرًا وَلَحْمًا وَأَفْطَرَ۔ قِرَاءَةُ الْعَامَّةِ يُطِيقُونَهُ (البقرة: ١٨٥) وَهُوَ أَكْثَرُ۔ ب بوڑھے روٹی اور گوشت کھلاتے رہے اور افطار کرتے رہے۔ اس کی عمومی قرآت يُطِيقُونَهُ ہے، اور اکثر اسی طرح پڑھتے ہیں۔