صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 57 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 57

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۷ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احبار باب ۱۶ آیت ۲۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ساتویں مہینہ کی دسویں تاریخ کو ایک روزہ رکھنا یہود کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ بنی اسرائیل ہمیشہ یہ روزے رکھتے رہے اور انبیاء بنی اسرائیل بھی اس کی تاکید کرتے رہے۔“ باب ٢٥ ( تفسير كبير، سورة البقرة آیت ۱۸۴ جلد ۲ صفحه ۳۷۲) ايَا مَا مَّعْدُودَت فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أَخَرَ ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) چند گنتی کے دن، سو تم میں سے جو بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کے روزے رکھ لئے جائیں وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ اور وہ لوگ جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہوں مِسْكِيْنِ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَه ان پر فدیہ دینا ضروری ہو گا۔یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانا، اور جس نے اپنی خوشی سے نیکی کی تو وہ وَ أَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم اس کے لئے بہتر ہے۔روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہو گا اگر تم جانتے ہو۔تَعلَمُونَ (البقرة: ١٨٥) وَقَالَ عَطَاءٌ يُفْطِرُ مِنَ الْمَرَضِ كُلِّهِ اور عطاء نے کہا: بیماری کی وجہ سے افطار کرے كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى وَقَالَ الْحَسَنُ جيسا كہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور حسن (بصری) اور وَإِبْرَاهِيمُ فِي الْمُرْضِعِ وَ الْحَامِلِ إِذَا ابراہیم (شخصی) نے دودھ پلانے والی اور حاملہ کی خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ وَلَدِهِمَا بابت کہا: اگر وہ اپنے یا اپنے بچے کے متعلق ڈریں تُفْطِرَانِ ثُمَّ تَقْضِيَانِ وَأَمَّا الشَّيْخُ تو افطار کریں، پھر روزے پورے کریں۔اور جو الْكَبِيرُ إِذَا لَمْ يُطِقِ الصِّيَامَ فَقَدْ أَطْعَمَ بہت بوڑھا ہو اگر وہ روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو أَنَسٌ بَعْدَ مَا كَبِرَ عَامًا أَوْ عَامَيْن كُل تو وه فدیہ دے) چنانچہ حضرت انس جب بوڑھے ہو گئے ایک یا دو سال تک ہر روز ایک مسکین کو يَوْمٍ مِسْكِينًا خُبْرًا وَلَحْمًا وَأَفْطَرَ۔روٹی اور گوشت کھلاتے رہے اور افطار کرتے رہے۔اس کی عمومی قرآت يُطِيقُونَہ ہے، اور اکثر اسی طرح پڑھتے ہیں۔قِرَاءَةُ الْعَامَّةِ يُطِيقُونَهُ (البقرة: ١٨٥) وَهُوَ أَكْثَرُ۔