صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 54
۵۴ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحيح البخاری جلد ۱۰ ہے۔اصل قانون الْقِصَاصُ فِي القَتُلی ہے۔مقتول کا انتقام قاتل سے لیا جائے گا، قطع نظر اس سے کہ وہ آزاد ہے یا غلام، مرد ہے یا عورت۔شریعت اسلامیہ میں طبقاتی یا جنسی کوئی استثناء نہیں۔زمانہ جاہلیت میں عرب قاتل کے بیٹے یا کسی رشتہ دار کو قتل کر دیتے تھے جس کی ممانعت ہوئی۔الحُر بالحد سے تصریح کی گئی کہ شریف زادہ قاتل ہو تو وہ شریف زادہ ہی قتل کیا جائے گا۔اس کے بدلے میں کوئی دوسرا قتل نہیں کیا جائے گا۔الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلی سے سابقہ تعزیرات میں جو سختی اور غلو تھا وہ روک دیا گیا ہے۔زخموں کی سزا بھی قتل سے دی جاتی تھی۔آیت کا ایک ایک لفظ بر محل اور اس کے معانی و مطالب میں وسعت مد نظر ہے۔تَخْفِيفَ مِن رَّبِّكُم وَرَحْمَةٌ: تخفیف سزا اور نرمی کا تعلق جرم کی قلت سے ہے نہ کہ اس کی سنگینی سے۔یہ مراد نہیں کہ جرم سنگین نوعیت کا ہو اور بواعث و محرکات جرم اور اس کی شہادتیں واضح ہوں تو بھی اس کی سزا میں تخفیف ورحمت سے کام لیا جائے۔قتل عمد میں کوئی نرمی نہیں۔قاتل کی سزا قتل ہی ہے۔البتہ قتل غیر ارادی سے و تخفیف ورحمت کا تعلق ہے، اس کی نسبت تعزیری حکم کی وضاحت سورہ نساء کی آیت نمبر ۹۳ میں کی گئی ہے۔فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ اَلِيْم : عفو کے بعد اعادہ جرم کرے یا قاتل ویت نہ دے تو عَذَاب الیم سے مراد مذکورہ بالا روایت میں قصاص قتل بتایا گیا ہے۔اس باب کی روایت جرم اور سزا میں تخفیف و رحمت کی نوعیت واضح کرنے کی غرض سے نقل کی گئی ہے، جو استثنائی حکم ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ تخفیف و رحمت کا تعلق قابل قصاص جرم سے نہیں۔بَاب ٢٤ ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: ١٨٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر ( بھی ) روزوں کا رکھنا (اسی طرح) فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تا کہ تم روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو ٤٥٠١ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۴۵۰۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچي (بن عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ سعید قطان نے ہمیں بتایا۔عبید اللہ سے روایت عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ہے۔انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت كَانَ عَاشُورَاءُ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ قَالَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ عاشورہ ایسا دن تھا جس میں زمانہ جاہلیت کے لوگ