صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 53 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 53

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۳ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة وَأَبَوْا إِلَّا الْقِصَاصَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے بدلہ لینے پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ ہی اصرار کیا۔اس پر رسول اللہ صلی الم نے بدلہ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لینے کا حکم دیا۔حضرت انس بن نضر نے کہا: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ یا رسول اللہ ! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَنَسُ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ انس كتاب اللہ تو بدلہ لینے کا ہی حکم کرتی الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی ہے۔(یہ سن کر) وہ لوگ خوش ہو گئے اور انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ نے معاف کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لَّوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ۔فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر اللہ کو بھی قسم دیں تو وہ ان کی اطرافه: ٢٧٠٣، ٢٨٠٦، ٤٤٩٩، ٤٦١١، ٦٨٩٤۔قسم کو ضرور پورا کر دے۔۲۷۰۳، ۲۸۰۶، يح : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ: پوری آیت یہ ہے: يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُ بِالْحُرُ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأَنْقَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عَفِى لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ فَاتِبَاعُ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَدَاءِ إِلَيْهِ بِاِحْسَانِ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِن زَيَّكُمْ وَ رَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ اليه ( البقرة: ۱۷۹) ترجمہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے۔اگر ( قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل) سے اور اگر ( قاتل) غلام ہو تو اسی غلام ( قاتل) سے اور اگر ( قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے، مگر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے تو ( مقتول کا وارث بقیہ تاوان کو صرف) مناسب طور پر وصول کر سکتا ہے اور ( قاتل پر) عمدگی کے ساتھ (بقیہ تاوان) اس کو ادا کر دینا (واجب) ہے۔یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔پھر جو شخص اس (حکم) کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لئے درد ناک عذاب ( مقدر) ہے۔فمن عفی لکه من أَخِيهِ شَيْءٌ، أَى تُرِكَ لَهُ۔جسے اس کے بھائی کی طرف سے دیت میں سے کچھ چھوڑ دیا جائے تو چاہیے کہ فیصلہ کی تعمیل دستور کے مطابق ہو اور ادائیگی عمدہ صورت میں ہو۔آیت میں بھائی کا لفظ اختیار کر کے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ قاتل کی سزا قتل ہر صورت میں، بعض وقت خاندان کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔جبکہ قاتل بھائی ہو جو خاندان کا اکیلا سر پر ست ہے، یا قتل عمد نہیں تو نقصان جان کی تلافی دیت سے کی جاسکتی ہے۔یہ استثنائی صورت