صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 52 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 52

صحیح البخاری جلد ۱۰ (البقرة:١٧٩) يَتَّبِعُ بِالْمَعْرُوفِ وَ يُؤَدِّي بِإِحْسَانٍ ذُلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ ۵۲ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ (البقرة : ۱۷۹) فَالْعَفْو غلام ہو تو اسی غلام (قاتل) سے اور اگر (قاتل) أَنْ يَقْبَلَ الذِيَةَ فِي الْعَمْدِ فَاتِبَاعٌ عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے، مگر جس بِالْمَعْرُوفِ وَادَاء إِلَيْهِ بِاِحْسَانِ (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے (تو یہاں) عفو کے معنی ہیں کہ وہ قتل عمد میں دیت کو منظور کرلے۔فَاتِبَاعُ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَدَاءِ إِلَيْهِ بِأَحْسَانِ یعنی وہ دستور کے مطابق مطالبہ کرے اور وہ (ان کو) عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَمَنِ اعْتَدی اچھی طرح ادا کر دے۔یہ تمہارے رب کی بَعد ذلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ اَلِيم طرف سے تخفیف اور رحمت ہے، ہمقابل اس (البقرة: ١٧٩) قَتَلَ بَعْدَ قَبُولِ الدِّيَةِ۔حکم کے جو تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا۔سو جس نے اس کے بعد زیادتی کی اس کو دردناک ربَّكُم وَرَحْمَةٌ (البقرة: ١٧٩) مِمَّا كُتِبَ طرفة : ۱۸۸۱ - سزا دی جائے۔یعنی دیت قبول کرنے کے بعد ( زیادتی کرے) تو اسے قتل کر دیں۔٤٤٩٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۴۹۹ محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہمیں بتایا کہ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ أَنَّ أَنَسًا حمید نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس نے ان کو نبی صلی اللہ کم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔آپ نے حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ۔فرمایا: کتاب اللہ تو بدلہ لینے کا حکم کرتی ہے۔اطرافه ۲۷۰۳، ۲۸۰۶، ٤٥۰۰، ٤٦١١، ٦٨٩٤- ٤٥٠٠ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ :۴۵۰۰: عبد اللہ بن منیر نے مجھ سے بیان کیا کہ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ بَكْرِ السَّهْمِيَّ انہوں نے عبد اللہ بن بکر سبھی سے سنا کہ حمید نے ہمیں بتایا۔حضرت انس سے روایت ہے کہ ربیع حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيْعَ ان کی پھوپھی نے ایک لڑکی کا دانت توڑ ڈالا تو عَمَّتَهُ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَيْهَا رَب کے لوگوں نے اس سے معافی مانگی۔اس ربیع الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعَرَضُوا الْأَرْضَ فَأَبَوْا لڑکی کے لوگوں نے نہ مانا۔انہوں نے دیت پیش فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔پھر بھی وہ نہ مانے۔پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ