صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 51
صحيح البخاری جلد ۱۰ AL ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة باب ۲۳ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُ بِالْحُرِ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) (البقرة: ١٧٩) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے۔اگر (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد ( قاتل) سے اور اگر ( قاتل) غلام ہو تو اسی غلام ( قاتل) سے اور اگر ( قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے، مگر جس ( قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے تو ( مقتول کا وارث بقیہ تاوان کو صرف) مناسب طور پر وصول کر سکتا ہے اور (قاتل پر) عمدگی کے ساتھ (بقیہ تاوان) اس کو ادا کر دینا (واجب) ہے۔یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔پھر جو شخص اس (حکم) کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ( مقدر) ہے۔عُفى ( البقرة: ١٧٩ ) تُرِكَ۔مُجَاهِدًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ (فَمَنْ عَفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ میں ) عُفی کے معنی چھوڑ دیا جائے۔٤٤٩٨ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۴۴۹۸ (عبد اللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو قَالَ سَمِعْتُ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور ان میں دیت نہ تھی۔اس لئے اللهُ تَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الله تعالیٰ نے اس امت کے لئے فرمایا: متقولوں کا الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا ہے۔اگر ( قاتل) آزاد بِالْعَبْدِ وَالأنْثَى بِالأُنثى فَمَنْ عُنِي لَهُ (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل) سے اور اگر (قاتل)