صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 50
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة معلوم ہو۔ یہ تفسیر ابو عبیدہ سے مروی ہے اور صفا جمع ہے صفوان کی بمعنی حجر ( پتھر )۔ یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے، جو طبری نے موصولاً نقل کیا ہے۔ صَفْوَانَةٌ اس پتھریلی چٹیل زمین کو بھی کہتے ہیں جہاں کوئی نباتات نہ اُگ سکے۔ اس کی جمع صفا، اصفاء اور صفا ہے۔ یہ تفسیر بھی ابو عبیدہ کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۲۰، ۲۲۱) اس باب کی دونوں روایتیں کتاب الحج میں گزر چکی ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے کتاب الحج، باب ۷۹، ۸۰۔ باب ۲۲ : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا (البقرة : ١٦٦) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ) اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں أَضْدَادًا وَاحِدُهَا نِدٌ۔ جو اللہ کے سوا اوروں کو اُس کا ہمسر بناتے ہیں ( اندادا کے معنی ہیں) مدمقابل، اس کی مفروید ہے ہے۔ ٤٤٩٧ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي ۴۴۹۷ عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحمزہ حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ (محمد بن میمون ) سے ، ابو حمزہ نے اعمش سے ، اعمش عَبْدِ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے شقیق سے شقیق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ) وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَقُلْتُ أُخْرَى قَالَ النَّبِيُّ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَّاتَ وَهُوَ فرمائی اور میں نے ایک اور (بات) کہی۔ نبی صلی اللہ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (ایسی حالت میں ) مر جائے وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ وَهُوَ لَا يَدْعُو کہ وہ اللہ کے سوا اُس کے شریک کو پکارتا ہو، لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ۔ اطرافه ١٢٣٨، ٦٦٨٣- وہ آگ میں داخل ہو گیا اور میں نے (یوں) کہا: جو (ایسی حالت میں ) مر جائے کہ وہ اللہ کا کوئی شریک نہ پکارتا ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ تشريح : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللهِ أَنْدَادًا: یہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۶ ہے، جس سے عنوان باب قائم کیا گیا ہے۔ لفظ آندَادًا جمع ہے نیڈا کی، جس کے معانی ہیں مثل، ہمسر اور مد مقابل۔ اس باب کے تعلق میں روایت نمبر ۷ ۴۴۹ نقل کی گئی ہے، جس میں شرک باللہ کے سب سے بڑے گناہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یہی مضمون كتاب التفسير سورة البقرة باب نمبر ۳ میں بھی گذر چکا ہے۔ ا (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة آيت إنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ ، جزء ۴ صفحه ۶۶۵)