صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 48
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۸ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة بَاب ۲۱: قَوْلُهُ إِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَابِرِ اللهِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: صفا اور مروہ یقینا اللہ کے نشانات میں سے ہیں فَمَنْ حَجَ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اس لئے جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر اَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا کوئی گناہ نہیں، اگر ان کے درمیان بھی چکر فَإِنَّ اللهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ (البقرة : ١٥٩) لگائے۔اور جس نے خوشی سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان، خوب علم رکھنے والا ہے۔شَعَائِرُ عَلَامَاتٌ وَاحِدَتُهَا شَعِيْرَةٌ شَعَائِرُ کے معنی ہیں نشانات۔اس کا مفرد شَعِيدَةُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الصَّفْوَانُ الْحَجَرُ ہے۔حضرت ابن عباس نے کہا: (اس سورۃ میں وَيُقَالُ الْحِجَارَةُ الْمُلْسُ الَّتِي لَا یہ جو ہے: فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ) صَفْوَان کے تُنْبِتُ شَيْئًا، وَالْوَاحِدَةُ صَفْوَانَةٌ معنى پتھر کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ (اس سے مراد وہ چکنے پتھر ہیں کہ جو کچھ نہیں اُگاتے بِمَعْنَى الصَّفَا، وَالصَّفَا لِلْجَمِيعِ۔اور اس کی مفرد صَفْوَانَةٌ ہے جو صفا کے معنی میں ہے اور اس کی جمع صفا بھی ہے۔٤٤٩٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۴۴۹۵: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْن عُرْوَةَ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ نبی صلی اللہ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ عَليه وسلم کی زوجہ سے پوچھا اور میں ان دنوں کم سن تھا، بتلائیں: اللہ تعالیٰ نے ( یہ جو ) فرمایا ہے وَتَعَالَى إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاهِرِ اللَّهِ صفا اور مروہ بھی اللہ کے نشانوں میں سے ہیں۔فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر کوئی گناہ اَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا (البقرة : ١٥٩) فَمَا أُرى نہیں کہ ان دونوں کے درمیان چکر لگائے۔عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَّا يَطَّوَّفَ بِهِمَا میرے نزدیک کچھ (بھی حرج) نہیں اگر کوئی ان فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا کا طواف نہ کرے۔حضرت عائشہ نے ( یہ سُن کر)