صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 43 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 43

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة تشريح : قَدْ نَرَى تَقَلبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاء: سنت اللہ اسی طرح جاری ہوتی ہے کہ جب وہ اپنی کسی مشیئت کے جاری کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اپنے بندوں کے دلوں کو اس طرف مائل کرتا اور اس کے لئے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ ازل سے یہ مقدر ہو چکا تھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ (زبور باب ۱۱۸ (۲۲) حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک تاکستان کی تمثیل بیان فرمائی ہے کہ باغبانوں نے اللہ تعالیٰ کے فرستادوں سے برا سلوک کیا۔ کسی کو پیٹا، کسی کو سنگسار اور کسی کو قتل کیا۔ لیکن جب تاکستان کا مالک آئے گا تو بدکاروں کو بُری طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ ایسے باغبانوں کو دے گا جو موسم پر اس کو پھل دیں اور فرماتے ہیں: ”میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اُس قوم کو جو اُس کے پھل لائے، دے دی جائے گی۔“ (متی باب ۲۱ : ۳۳ تا ۴۳) انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق نئے قبلہ کی بنیاد ڈالی گئی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے دیباچہ تفسیر القرآن، بائبل میں قرآن مجید کے نزول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں ، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۱۱۵ تا ۱۷۴۔ لَمْ يَبْقَ مَنْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ غَيْرِی: حضرت انس سے متعلق مشہور ہے کہ وہ آخری صحابی ہیں۔ ایک سوتین برس کی عمر میں بمقام بصرہ فوت ہوئے ا فوت ہوئے اور وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے دونوں قبلوں بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع پایا۔ امام ابن حجر کو اس میں تردد ہوا ہے۔ کیونکہ بعض صحابہ نے دیہاتی قبائل میں بودوباش اختیار کر لی تھی اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ وہی آخری صحابی تھے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۱۷، ۲۱۸) مذکورہ بالا روایت میں نفی کا تعلق خاص سے ہے ، صحابہ سے بالعموم نہیں۔ باب ١٦ : وَلَئِنْ آتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكَ إِذَا لَمِنَ الظَّلِمِينَ (البقرة:١٤٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور جن لوگوں کو (تم سے پہلے ) کتاب دی گئی ہے اگر تو اُن کے پاس ہر ایک (طرح کا) نشان (بھی) لے آئے (تو بھی) وہ تیرے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تو اُن کے قبلہ کی پیروی کر سکتا ہے اور نہ ان میں سے کوئی (فریق) دوسرے (فریق) کے قبلہ کی پیروی کرے گا اور (اے مخاطب !) اگر اس کے بعد بھی کہ تیرے پاس (الٰہی) علم آچکا ہے تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً اس صورت میں تو ظالموں میں (شمار) ہوگا ٤٤٩٠ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ۴۴۹۰ : خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن دینار نے مجھے