صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 42 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 42

صحيح البخاری جلد ۱۰ م ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة ذریعہ آپ کو یقینی علم تھا کہ مشیت الہی نے لوگوں کے لئے اس کو قبلہ ٹھہرایا ہوا ہے، اس لیے اپنی خواہش کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت اس وقت تک رکھا، جب تک کہ تحویل قبلہ کے متعلق صریح حکم نہیں آ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پاک نمونہ ہمارے لیے ابد الآباد تک ستارہ قطب کی طرح رہنما ر ہے گا کہ ہماری حرکات وسکنات اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے ماتحت ہونی چاہئیں۔یہ ہے ایمان کا کمال اور انسان کے سارے اعمال کی زینت۔یادر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ابراہیمی تعلق کی وجہ سے تھی، نیز ان سابقہ پیشگوئیوں کو مد نظر رکھ کر تھی، جن کا ماحصل یہ ہے کہ نبوت اور برکاتِ الہیہ کا مرکز بیت المقدس سے منتقل ہو کر مکہ مکرمہ ہو گا۔فَتَوَجَّهُوْا إِلَى الْكَعْبَةِ: صحابہ کا نمونہ بھی کیا پیارا ہے۔تحویل قبلہ کی خبر سن کر نماز ہی میں قبلہ رُخ ہو گئے اور ایک لمحہ کے لیے بھی تردد نہ کیا۔حالانکہ ایک کام کی عادت کچھ نہ کچھ تو اپنا اثر دکھلاتی ہے۔مگر وہ نہایت سہولت سے سب کے سب یک دم قبلہ کی طرف پھر گئے۔گویا فوجی قواعد تھے۔اس کی بھی ضرورت نہ سمجھی کہ تحقیق کرلیں۔یہ ہے وہ اعتماد ایک دوسرے کی صداقت پر اور یہ ہے وہ مستعدی جو اسلام اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے کے لیے چاہتا ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب الایمان باب ۳۰۔باب ١٥ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ إِلَى عَمَّا يَعْمَلُونَ (البقرة: ١٤٥) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) ہم تیری توجہ کا بار بار آسمان کی طرف پھر نا دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم تجھے ضرور اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے تو پسند کرتا ہے سو (آب) تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے۔اور (اے مسلمانو!) تم (بھی) جہاں کہیں ہو، اس کی طرف اپنا منہ کیا کرو اور جن (لوگوں) کو کتاب ( یعنی تورات) دی گئی ہے وہ یقینا جانتے ہیں کہ یہ ( تحویل قبلہ کا حکم ) تیرے رب کی طرف سے بھیجی ہوئی صداقت ہے اور جو کچھ یہ (لوگ) کر رہے ہیں، اللہ اس سے ہر گز بے خبر نہیں ہے ٤٤٨٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۴۸۹ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ کیا کہ معتمر ( بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ان لوگوں میں سے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی میرے سوا کوئی نہیں رہا۔رَضِيَ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ غَيْرِي۔