صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 41 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 41

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة بَاب ١٤ : وَمَا جَعَلْنَا القِبْلَةَ الَّتِى كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور ہم نے اس قبلہ کو جس پر تو (اس سے پہلے قائم ) تھا صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ تاہم اس شخص کو جو اس رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے اس شخص کے مقابل پر جو ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے (ایک ممتاز حیثیت میں ) جان لیں وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اور یہ (امر) ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ نے الله وَ مَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ اِيْمَانَكُمْ ہدایت دی ہے (دوسروں کے لئے ضرور مشکل ) إنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔ہے اور اللہ (ایسا) نہیں کہ تمہارے ایمانوں کو ضائع کرے۔اللہ یقیناً سب انسانوں پر نہایت (البقرة: ١٤٤) مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔٤٤٨٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۴۴۸۸ مد د نے ہم سے بیان کیا کہ يحي (بن يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن سعید قطان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا (ثوری) سے، سفیان نے عبد اللہ بن دینار سے، بَيْنَا النَّاسُ يُصَلُّونَ الصُّبْحَ فِي مَسْجِدِ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے قُبَاءٍ إِذْ جَاءَ جَاءٍ فَقَالَ أَنْزَلَ اللهُ روایت کی کہ اس اثنا میں کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے ، ایک شخص آیا اور اس عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن قُرْآنًا أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا فَتَوَجَّهُوْا إِلَى الْكَعْبَةِ۔نازل کیا ہے کہ وہ کعبہ کو قبلہ بنائیں۔اس لئے تم بھی اس کو قبلہ بناؤ تو ( یہ سُن کر ) انہوں نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔أطرافه ٤٠٣ ٤٤٩٠، ٤٤٩١ ، ٤٤٩٣، ٤٤٩٤، ٧٢٥١- تشريح : وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا : قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با وجو د پسند کرنے اور خواہش رکھنے کے ایک لمبے عرصہ تک بیت المقدس کی طرف ہی منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔باوجود اپنی خواہش کے آپ نے بیت المقدس کو نہیں چھوڑا۔کیونکہ سابقہ شریعت کے