صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 40
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة کو گواہ ٹھہرایا کہ میں نے تبلیغ کا فرض ادا کر دیا۔(دیکھئے کتاب الحج باب ۱۳۲، روایت نمبر ۱۷۴۱) یہ اعلیٰ درجہ کا مقام شہادت دیگر انبیاء اور ان کی امتوں کو حاصل نہیں ہوا۔شدت تکذیب اور حق تبلیغ سے انکار کا ذکر سورۃ الملک کی آیات ۸ تا ۱۱ میں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اتمام حجت کا ذکر سورۃ المائدہ میں ہے۔فرماتا ہے : ياهل الكتب قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنَ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَ نَذِيرٌ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (المائدة: ۲۰) یعنی اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے۔وہ رسولوں کے انقطاع کے بعد تم سے (ہماری باتیں) بیان کرتا ہے۔تاکہ تم ( یہ ) نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے ولا آیا ہے اور نہ ڈرانے والا۔سو تمہارے پاس ایک بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے اور اللہ ہر ایک بات پر پورا ( پورا ) قادر ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اتمام حجت کی گئی ہے اور قیامت کے دن بھی اس اتمام حجت کا ظہور ہو گا جب کوئی قوم اپنے نبی کی تبلیغ سے انکار کرے گی۔قرآنِ مجید میں انبیاء علیہم السلام اور ان کی تبلیغ کا ذکر محفوظ کیا گیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے لقب سے سرفراز کئے گئے ہیں تا انبیاء اور ان کی قوموں کے لئے بطور شاہد عادل بنیں اور آپ کے اس مبارک لقب کی برکت سے آپ کی امت بھی شاہد عادل قرار دی گئی ہے اور اس اعتبار سے امت محمدیہ کا فرض منصبی متعین ہوتا ہے کہ وہ تمام قوموں میں تبلیغ کرے اور ان کی ہدایت کا موجب ہو۔آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاس (آل عمران: 1) کا بھی یہی مفہوم ہے کہ وہ اسی صورت میں بہترین امت ہوگی کہ جب لوگوں کی فی الواقعہ خیر خواہ اور راہنما بنے گی اور اسی جہت سے قیامت کے روز ان کی شہادت انبیاء کے لئے بھی قابل قدر اور عند اللہ مقبول ہو گی۔وسط کے معنی خَيَارُ النَّاس - بہترین لوگ بھی لئے گئے ہیں۔طبری نے بیان کیا ہے : الوَسَطُ فَإِنَّهُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْخِيَارُ - یعنی وسط کے معنی عربوں کے نزدیک بہترین کے ہیں۔یادر ہے کہ فریضہ جہاد احکام اسلام میں سے ہے اور تبلیغ بالقرآن جہاد کبیر قرار دیا گیا ہے۔(الفرقان: ۵۳) جو فرد مسلم پر اسی طرح واجب ہے جس طرح فریضہ صلوۃ و صوم۔مذکورہ بالا روایت کے تعلق میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علیم خدا کو شہادت کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ درست ہے، اسے قطعا ضرورت نہیں۔لیکن انسان محتاج ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں سے مطلع ہو اور یہ اطلاع اسے اس وقت ہوتی ہے جب آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالا جاتا ہے۔اسے بھی اپنی کمزوری یا مضبوطی کا علم ہو جاتا ہے اور لوگوں کو بھی۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔“ (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة آيت وَ كَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا، جزء ۲ صفحه ۶۲۶)