صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 39
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة فَيَقُوْلُوْنَ مَا أَتَانَا مِنْ نَّذِيرٍ فَيَقُوْلُ مَنْ کی قوم سے پوچھا جائے گا: کیا اس نے تمہیں (میرا يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ حکم پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے : ہمارے پاس تو فَيَشْهَدُوْنَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّعَ وَيَكُونَ الرَّسُوْلُ کوئی نذیر نہیں آیا۔تب وہ پوچھے گا: تیرے لئے عَلَيْكُمْ شَهِيدًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ کون شہادت دے گا؟ نوخ کہیں گے : محمد اور اُن ذِكْرُهُ : وَ كَذلِكَ جَعَلَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا کی اُمت۔اور وہ شہادت دیں گے کہ انہوں نے لتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ في الواقع (حکم) پہنچا دیا تھا اور یہ رسول بھی تمہارے متعلق (اسی طرح) شاہد ہو گا۔اور یہ وہی بات ہے جو اللہ جل ذکرہ فرماتا ہے: اور اسی طرح ہم نے تمہیں اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے تاکہ تم (دوسرے) لوگوں کے نگران بنو اور یہ رسول تم پر نگران ہو اور الوسط کے معنی ہیں العدل (یعنی اعلیٰ درجہ کا)۔الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرة : ١٤٤) وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ۔أطرافه: ۳۳۳۹، ۷۳۶۹- تشريح : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا : روایت زیر باب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی امت نے ان کی تکذیب کی۔بہت کم ایمان لائے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے: و أوحى إلى نوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ أَمَنَ فَلَا تَبْتَبِسُ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (هود:۳۷) اور نوح کو وحی کی گئی کہ تیری قوم ہرگز نہیں مانے گی سوا اُن کے جو مان چکے ہیں۔سو اپنی جان جوکھوں میں نہ ڈال بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کر رہے ہیں۔ان کی یہی قوم روزِ قیامت بوقت محاسبہ انکار کرے گی کہ اسے تبلیغ نہیں کی گئی تو حضرت نوح سے شہادت طلب کی جائے گی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو بطور گواہ پیش کریں گے اور یہ شہادت دیں گے کہ انہوں نے فی الواقعہ تبلیغ کی تھی۔اسی شہادت کا ذکر آیت لِتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ میں کیا گیا ہے اور آیت وَ كَذلِكَ جَعَلَتُكُمْ أُمَّةً وَسَطًا میں لفظ الوسط کے معنی ہیں العدل، یعنی اول درجہ کے عادل، مستقیم جو صحیح راستے پر قائم ہوں۔اُمَّةً وَسَطًا سے مراد اعلیٰ درجے کی امت ہے۔صحیح شہادت کے لئے ضروری ہے کہ آنکھوں دیکھی بات کہی جائے۔سماعی شہادت (کانوں سنی بات) کی عدالت میں اتنی وقعت نہیں جتنی عینی شہادت کی ہوتی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شھید ہیں۔اس جہت سے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی واضح طور پر ہوئی۔ان کو صفات باری تعالیٰ کی ایک ایک صفت کا بار بار مشاہدہ ہوا اور آپ کے ذریعہ سے صحابہ کرام کو ان صفات کا مشاہدہ ہوا۔اس طرح آپ نے تبلیغ کا فرض ادا کیا، اور حجتہ الوداع میں اور اس کے بعد بوقت نزع آپ نے لوگوں کو اور اللہ تعالیٰ