صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 582
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۸۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف اور علامہ عینی نے ثعلبی کے نے شعبی کے حوالے سے یہ : یہ بتایا ہے کہ نَسِيا حُوتَهُمَا میں دو یعنی موسیٰ اور یوشع کے بھول جانے کا ذکر ہے۔ لیکن دراصل بھولنے والا صرف ایک ہی شخص ہے یعنی یوشع بن نہ بن نون زبان عربی میں بعض وقت ضمیر تثنیہ استعمال ہوتی ہے لیکن مراد صرف ایک شے ہوتی ہے۔ الفاظ کے تناسب کی وجہ سے ضمیر تثنیہ استعمال ہوتی ہے۔ جیسے سورہ رحمن (آیت نمبر (۲۳) میں فرمایا: يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ) کہ ان دو سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ مذکورہ بالا قیمتی چیزیں کڑوے پانی سے نکلتی ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۴۲) یہ دونوں چیزیں نہر سویز و پانامہ سے بکثرت نکلتی ہیں۔ نہر سویز بحیرہ رت نکلتی ہیں۔ نہر سویز بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کو ملاتی ہے اہے اور نہر پانامہ بحر اوقیانوس ا بحر الکاہل کے درمیان اتصال پیدا کرتی ہے۔ لیکن چونکہ آیات میں دو سمندروں کا ذکر ہے اس لئے جب ان چیزوں کے نکلنے کا ذکر کیا ہے تو دونوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پوری آیت یہ ہے : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِينِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبُنِ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ (الرحمن : ۲۰ تا ۲۳) اس نے دو سمندروں کو اس طرح چلایا ہے کہ وہ ایک وقت میں مل جائیں گے ۔ (سردست ) ان کے درمیان ایک پردہ ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کا انکار کرو گے۔ ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ امام ثعلبی کی مراد یہ ہے کہ چونکہ ان آیات میں بحرین، يَلْتَقِين، لا يَبْغِينِ ، تُكَذِّبن تثنیہ کے صیغے ہیں۔ اسی تسلسل میں لفظ يَخْرُجُ مِنْهُما تثنیہ استعمال ہوا ہے۔ ورنہ موتی اور مونگے کڑوے سمندر سے نکلتے ہیں۔ یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ آیا امام ثعلبی کو بحر الکاہل ( جو نسبتاً میٹھے پانی کا سمند رہے ) سے ان چیزوں کے نکلنے کا علم تھایا نہیں۔ جس طرح انیسویں صدی میں نہر سویز سے بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کو ملایا گیا ہے ، اسی طرح نہر پانامہ کے ذریعہ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل بھی ملائے گئے ہیں۔ غرض یہ آیات ایک پیشگوئی پر بھی مشتمل ہیں جو ہمارے زمانے میں پوری ہوئی ہے۔ آیات کے اس حصے کا علم نہ امام ثعلبی کو ہو سکتا تھا نہ امام بخاری کو۔ پیشگوئی کے اس حصے میں اس سے زیادہ تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ کیونکہ عنوان زیر باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے متعلق روایات زیر باب کا تعلق ہے اور جہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیر روحانی کا تعلق ہے اس بارے میں بغیر کسی تردد کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم ہو چکا تھا کہ ان کی قوم دین حق سے ارتداد اختیار کرے گی۔ جیسا کہ کتاب استثناء کے باب ۳۰، ۳۱ میں ان کے ارتداد کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے ارتداد کا علم وحی یا مکاشفہ یا رویا ہی کے ذریعہ ہو سکتا تھا۔ ان ذرائع کے ماسوا اُن کے پاس اور کونسا ذریعہ تھا۔ قرآن مجید کے اسلوب بیان پر غور کیا جائے تو اس بیان کا کوئی حصہ بھی ظاہر پر چسپاں نہیں ہو سکتا اور تاویل طلب ہے۔ مثلاً مچھلی کا پھڑ پھڑانا اور زندہ ہو کر سمندر میں چلے جانا، کشتی میں شگاف کر دینا، خوبصورت لڑکے کا قتل ۔ یہ انوکھی اور اچھی باتیں رویا اور کشف میں ہی دیکھی جاسکتی ہیں اور رویا یا کشف ایک تمثیلی نظار میں نظارہ ہوتا ہے جسے جسے سمجھنے کے لئے تمثیلی زبان کا " ما زبان کا سمجھنا ضروری ہے اور اس سے متعلق اصلاحات کتب علم تعبیر میں مذکور ہیں۔