صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 581 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 581

۵۸۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف صحيح البخاری جلد ۱۰ آخر اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی مظلومیت اور غایت درجہ مفلوک الحال اور پستی سے انہیں اُٹھایا اور بام عروج تک پہنچایا۔لیکن انہوں نے اپنے رب کے ان احسانات کو بھلا دیا۔آیت میں اس طرف اشارہ ہے۔دوسری بڑی وجہ جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ حیات آخرت پر عدم ایمان ہے، یعنی جزا و سزا کے وقت سے انکار۔یوم محاسبہ سے نڈر ہو کر عیسائی قوم نے جو چاہا سو کیا۔اگر محاسبہ کا خیال ہوتا تو دنیا میں فتنہ وفساد برپا نہ کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روز حساب ان کی بڑی سے بڑی شخصیتوں کی پر پشہ وقعت نہ ہوگی۔زیر باب دونوں روایتوں کا یہی خلاصہ ہے جو معنونہ آیات کی شرح میں نقل کی گئی ہیں۔سورۃ الکہف شروع سے لے کر آخر تک عیسائی اقوام سے متعلق ایک مہتم بالشان پیشگوئی پرمشتمل ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر ، تفسیر سورۃ الکہف، جلد ۴۔یہ سوال کہ سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے خلیفہ کا جو سفر مذکور ہے آیادہ فی الواقعہ مکاشفہ ہے یار دیا، جس سے انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی روحانی سیر مجمع البحرین تک ہی محدود ہے جہاں خضر راہ ہو گا۔آیا اس کا کوئی ذکر تورات میں ہے یا نہیں ؟ قرآن مجید یا احادیث کے الفاظ میں ایسا کوئی ذکر نہیں۔البتہ جو اس مکاشفہ کی تاویل ہے اس کا ذکر مفہوما کتاب استثناء باب ۱۸: ۱۵ تا ۲۰ کی مشہور پیشگوئی میں پایا جاتا ہے۔جس میں ایک ایسے نبی کے بر پاکئے جانے کی پیشگوئی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو گا اور جو باتمیں اس سے فرمائے گاوہ سب بنی اسرائیل سے کہے گا۔اگر وہ اس کی مانیں گے برکت پائیں گے ورنہ تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے۔اس موعود نبی سے متعلق یہ صراحت ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی مانند شرعی نبی ہو گا جس کی شریعت جامع احکام الہی ہو گی۔اور یوشع بن نون نبی کی نسبت تو رات میں صراحت ہے کہ وہ روح القدس سے پر ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آئین احکام الہی اور برکت ولعنت کی باتیں واضح کرنے کے بعد یوشع بن نون ہی سے فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو توحید پر قائم رکھیں اور ان کو خبر دی کہ بنی اسرائیل شریعت کو پس پشت ڈال دیں گے اور توحید چھوڑ کر اجنبی دیوتاؤں کی پیروی کریں گے اور بجائے برکت کے لعنت و ہلاکت لیں گے۔(دیکھئے استثناء باب (۳۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس کشف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سفر کرنے والے حضرت عیسی علیہ السلام تھے۔آپؐ فرماتے ہیں: آیت میں یہ ذکر نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام گھر سے ایک نوجوان کو لے کر چلے، بلکه خود اُن کے چلنے کا بھی ذکر نہیں۔ذکر ہے تو یہ کہ موسیٰ نے اپنے آپ کو سفر کی حالت میں دیکھا اور اُس وقت ان کے ساتھ ایک نوجوان تھا۔وہ نوجوان حضرت مسیح تھے جو موسوی سفر کے اختتام کے قریب آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے اور پھر اس روحانی سفر میں ان کے ہمرکاب ہو گئے۔فا کا ( تفسیر کبیر ، سورة الكهف، آیت وَ اذْ قَالَ مُوسى لفشه ، جلد ۴ صفحه ۴۷۱،۴۷۰) یہی تعبیر اس مکاشفہ کی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے۔