صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 580 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 580

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۸۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف باب ٦ أولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَابِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ (الكهف: ١٠٦) الْآيَةَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے نشانوں کا اور اس سے ملنے کا انکار کر دیا ہے اس لیے ان کے (تمام) اعمال گر کر ( اسی دنیا میں ) رہ گئے ہیں ٤٧٢٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۷۲۹ : محمد بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا (کہا:) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا سعيد بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ مغیرہ (بن الْمُغِيرَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ عَنِ عبد الرحمن) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ ابو زناد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت عَنْهُ عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ زم ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی الم سے روایت کی۔ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ آپ نے فرمایا: قیامت کے روز ایک بڑا شخص جو السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ موٹا تازہ ہوگا آئے گا۔ وہ اللہ کے نزدیک پر پشہ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَقَالَ اقْرَءُوا فَلَا نُقِيمُ کے برابر بھی وزن نہ رکھے گا اور آپؐ نے فرمایا: لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنًا (الكهف : ١٠٦) (یہ آیت) پڑھو: قیامت کے دن ہم انہیں کچھ بھی وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ وقعت نہیں دیں گے۔ اور یحییٰ بن بکیر سے بھی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ مِثْلَهُ۔ مروی ہے۔ انہوں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے، مغیرہ نے ابو زناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔ تشريح: أُولَيكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَابِهِ : سورۃ الکہف کی اس آیت میں عیسائی) اقوام کے خسارہ عظیمہ کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کے احسانوں کی ناشکر گزاری کہ ایک وہ وقت تھا جب یہ رومیوں کے تشدد اور ظلم عظیم کی وجہ سے کچلے جارہے تھے اور یہاں کا یہاں تک کہ انہیں سوائے غاروں کے سطح زمین پر کہیں پناہ نہیں ملی تھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں خبر دار کیا تھا کہ غیر قو میں تمہیں پامال کریں گی۔ چنانچہ بخت نصر (Nebuchadnezzar) نے ۵۸۶ ق م میں ، انطاکس چہارم (Antiochus IV) نے ۶۸ اق م میں ویسپا زیان (Vespasian ) رومی کے بیٹے ٹائیٹس (Titus) نے ۷۰ عیسوی میں اور اس کے ۶۴ برس بعد ہیڈ ریان (Hadrian) قیصر رومی نے ۱۳۲ تا ۱۳۵ عیسوی میں بنی اسرائیل اور عیسائیوں پر بے پناہ ظلم توڑے۔