صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 579 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 579

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۷۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف ہے۔کا انجام آگ ہے جو سطح زمین پر بنی نوع انسان کے درمیان آتشیں تباہ کن جنگوں کی صورت میں بھڑکائی جائے گی اور بہت ہی بڑا خسارہ ہے۔سورۃ الکہف کی یہ پیشگوئی آج ہماری آنکھوں کے سامنے واقعات کی صورت میں متمثل - جس امر کی واقعات تصدیق کریں اس کی صداقت کے بارہ میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا۔اس وقت تک جو دو عالمگیر جنگوں کی آگ بھڑکائی جاچکی ہے اس کے مالی اور جانی نقصان کے اعداد و شمار بہت ہیں۔اس خطر ناک تباہی سے انسان طبعاً حیران ہوتا ہے کہ خالق کا ئنات رب العالمین کی حمد اور ربوبیت سے یہ ہلاکت بظاہر منافی ہے۔سورۃ البقرۃ میں ملائکتہ اللہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ کیا تو اس دنیا میں ایسا انسان پیدا کرے گا جو خونریزی اور فساد برپا کرے گا؟ اور انہیں جواب دیا گیا: میں جانتا ہوں جو میری حمد و تسبیح سے تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپائے ہوئے ہو۔حضرت موسیٰ اور صاحب مجمع البحرین کے واقعہ میں یہی بات بتائی گئی ہے کہ حوادث عالم میں علیم و حکیم خالق کی مشیت و حکمت کار فرما ہے۔اس کا کوئی فعل خالی از مصلحت ربانی نہیں۔چنانچہ سورۃ الکہف کا آغاز ہی اس آیت سے ہے : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الكتب وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًان (الکھف: ۲) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سراسر حمد سے متصف ہے اور یہ کتاب جو اُس ذات جامع الصفات کی طرف سے نازل ہوئی ہے وہ بھی اسی طرح ہر خوبی پر مشتمل ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو راستی پر مبنی نہ ہو۔ان الفاظ سے یہی مراد ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیات ان حقائق سے متعلق ہیں جو حمد و سبوحیت باری تعالیٰ پر دلالت کرتی ہیں۔دوسری جگہ فرماتا ہے: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمدِ ؟ ( بنی اسرائیل: ۴۵) اور (دنیا کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہوئی (اس کی) تسبیح کرتی ہے، یعنی خالق کائنات کی سبوحیت وحمد کی شہادت دے رہی ہے۔جوں جوں ہماری تحقیق کائنات میں گہری سے گہری اور وسیع سے وسیع ہوتی جارہی ہے اس سے یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ خالق کائنات کا ہر فعل نقص سے پاک اور گوناگوں خوبیوں سے متصف ہے اور ہر شے اپنے خالق کی حمد کا اقرار کرتی ہے اور فرماتا ہے: ولكن لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيْعَهُم (بنی اسرائیل:۴۵) لیکن تم ان ( اشیاء) کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔جس مقام پر انسانی چشم وا ہو کر بنائے حقائق ہو جاتا ہے اس مقام کا نام مجمع البحرین ہے۔اس مقام عرفان پر انسان کو دنیا کے حوادث کا ظاہر وباطن آپس میں پوری مطابقت رکھتا ہوا نظر آتا ہے اور سارا عالم کا ئنات کو مبنی بر علم و حکمت اور پُر از حقائق پاتا ہے۔حضرت موسی السلام کو مذکورہ بالا مکاشفہ میں جو ایک قسم کا معراج تھا یہی بات ذہن نشین کرائی گئی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی سیر اور تگ ودو مجمع البحرین تک ہی محدود ہوگی اور اس مقام پر ایک اور بند دخدا (عبد المنْ عِبَادِنَا ) ہے جو اپنے عرفان میں کامل اور بصیر بالحقائق ہے۔یہ صاحب عرفانِ کامل و جامع حقائق محمد رسول اللہ لا الہ ہم ہیں جو دنیا کے لئے خضر راہ ہوں گے ، ان کے ذریعہ تمام قوموں کی نجات مقدر ہے۔یہ خلاصہ ہے سورۃ الکہف کی معنونہ آیات کا۔اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود تفسیر سورۃ الکہف، جلد ۴۔