صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 577 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 577

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۷۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف صنعا کے معنی ہیں عملا۔ فرماتا ہے : قُلْ هَلْ تُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الحيوة الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعان (الكهف: : ۱۰۴، ۱۰۵) تو ام تو (انہیں) کہہ (کہ) کیا ہم تمہیں ان لوگوں سے آگاہ کریں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں۔ (یہ وہ لوگ ہیں) جن کی ( تمام تر ) کوشش اس ورلی زندگی میں ہی غائب ہو گئی ہے اور (اس کے ساتھ ) وہ (یہ بھی) سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ صنعا کے معنی بھی کام کے ہیں، جس میں صنعت اور فن کاری نمایاں ہو۔ ينقض کا لفظ سورۃ الکہف کی اس آیت میں بیان ہوا ہے : فانطلقا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةِ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اجران (الكهف: ۷۸) پھر وہ (وہاں سے بھی) چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی کے لوگوں کے پاس پہنچے تو اس (بستی) کے باشندوں سے انہوں نے کھانا مانگا، مگر اُنہوں نے اُنہیں (اپنے) مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے اس (بستی) میں ایک ایسی دیوار پائی جو گرنے کو تھی۔ اس (یعنی خضر ) نے اُسے درست کر دیا۔ (اس پر) اُس نے (یعنی موسی نے ) کہا (کہ) اگر آپ چاہتے تو یقینا اس کی کچھ نہ کچھ ) اُجرت لے سکتے تھے۔ لتَخِذت اور اتَّخذت ابو عبیدہ کے نزدیک دونوں ایک ہی ہیں۔ مسلم کی روایت میں جو عمرو بن محمد سے مروی ہے مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لَتَخِذُات پڑھا ہے۔ بجائے اتخذت کے۔ یہ قراءت قاری ابو عمرو کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۳۹) رحم جو رحمت سے مشتق ہے اس میں رقتِ قلب کا مفہوم پایا جاتا ہے اور رحم میں بھی یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ رحم میں انتہائی درجہ کی شفقت پائی جاتی ہے۔ فرماتا ہے : وَ أَمَّا الْخُلْمُ فَكَانَ آبَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِيْنَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَ كُفْرًا فَارَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكوةً وَ اَقْرَبَ رُحْمًا ( الكهف: ۸۱، ۸۲) اور (یہ جو) کا واقعہ ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے اس پر ( اس کی اس پر ( اس کی یہ حالت دیکھ کر ) ا ہم ڈرے کہ ایسا نہ ہو ( بڑے ہو کر) وہ ان پر سرکشی اور کفر کا الزام لگوا دے۔ پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ا اُن کو اس (لڑکے) سے پاکیزگی اور رحم و انصاف کے لحاظ سے بہتر (لڑکا بدل کر ) دے دے۔ لڑکے عیینہ وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هِمَا : زیر باب روایت جو قتیبہ سے بسند سفیان بن منقول ہے کتاب العلم میں بھی گزر چکی ہے اور عبد اللہ بن محمد سے مروی ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: یو : يَرْحَمُ الله مُوسَى لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هِمَا۔ امام ابن حجر نے اس خفیف سے اختلاف کی یہ توجیہہ بیان کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ابن عیینہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت دو دفعہ سنی ہو۔ ایک دفعہ اس زیادتی کے بغیر اور دوسری دفعہ مذکورہ بالا الفاظ سے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ زیادتی بطور ادراج یعنی راوی کی طرف سے اضافہ ہے۔ ا۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل الخضر عليه السلام)