صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 576
صحيح البخاری جلد ۱۰ الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا۔۵۷۶ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف لے سکتے تھے۔(خضر نے) کہا: یہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان جدائی (کا وقت) ہے۔جس بات پر تو صبر نہیں کر سکا، میں ابھی تجھے اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں۔رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا: ہمیں خواہش ہی رہی کہ کاش موسی صبر کرتے تا ان دونوں کا حال ہمیں بتا دیا جاتا۔سعید نے کہا: حضرت ابن عباس یوں پڑھتے تھے کہ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح کشتی کو زبر دستی چھین لیتا تھا۔اور (یہ جو) لڑکے کا واقعہ ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کافر تھا۔أطرافه : ۷٤، ۷۸، ۱۲۲، ۲۲۲۷، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ٣٤٠٠، ٣٤٠١، ٤٧٢٥، ٤٧٢٦، ٦٦٧٢، ٧٤٧٨۔تشریح: قال ادعيتَ إِذْ اَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ : يہ باب گذشتہ باب (نمبر (۴) کے ہی ضمن میں ہے۔اسی لیے اس پر الگ نمبر نہیں لگایا گیا۔اس باب کے تحت سابقہ روایت نئی سند کے ساتھ دہرائی گئی ہے، جس میں حضرت موسیٰ کی تھکان و بھوک کو آیت کے حوالے سے عنوان باب (نمبر ۴) میں نمایاں کیا گیا ہے۔لفظ امرا کے معنوں میں علماء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ آیا یہ لفظ بلیغ ہے یا نُكْرًا۔لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا امران (الکھف:۷۲) یعنی آپ نے یقینا (یہ) ایک ناپسندیدہ کام کیا ہے اور لَقَدْ جِثْتَ شَيْئًا تكران (الكهف: ۷۵) یعنی آپ نے یقین ( یہ ) بہت بُرا کام کیا ہے۔کشتی میں شگاف کرنے کے موقع پر پہلا فقرہ حضرت موسیٰ کی زبان سے نکلا اور دوسرا بے گناہ نفس کے قتل کے واقعہ پر کشتی میں شگاف کرنے سے سواریوں کے ہلاک ہو جانے کا اندیشہ تھا اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے بہت ہی خطرناک قرار دیا۔ڈر ہے کہ سواریاں غرق ہو جائیں گی۔اور ایک لڑکے کے قتل پر صرف ایک ہی جان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اس لئے لفظ امرا - نُكْرًا سے زیادہ بلیغ ہے۔بعض کے نزدیک ٹکڑا کا لفظ زیادہ بلیغ ہے۔کیونکہ نا پسندیدہ فعل واقع ہو چکا ہے اور شگاف والے واقعہ میں کشتی کے ڈوبنے کا صرف احتمال ہے۔لفظ نُكْرًا سورۃ الکہف کی آیت نمبر ۸۸ میں بھی آیا ہے جہاں اس کے معنی سخت کے ہیں۔فرماتا ہے: قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِبُهُ عَذَابا نكران (الكهف: ۸۸) اس نے کہا ہاں میں ایسا ہی کروں گا اور ) جو ظلم کرے گا اُسے تو ہم ضرور سزا دیں گے۔پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اُسے سخت سزا دے گا۔بخاری نے بھی ایک حوالے سے اس کے معنی دَاهِيَةٌ کئے ہیں یعنی بہت بڑی مصیبت ابو عبیدہ نے ٹکرا کے معنی عظیما کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۳۹)