صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 572
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۷۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف باب قَالَ أَرَعَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ (الكهف: ٦٤) اس نے کہا کہ ) بتایئے ( اب کیا ہو گا ) جب ہم ( آرام کے لیے ) اس چٹان پر ٹھہرے ٤٧٢٧ : حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۷۲۷: قتیبہ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا۔حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو (انہوں نے کہا: ) سفیان بن عیینہ نے مجھے بتایا کہ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس سے قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسِ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ کہا: نوف بکالی کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ خضر والے موسیٰ " نہیں تھے۔(حضرت ابن عباس بِمُوسَى الْخَضِرِ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوٌّ نے یہ سن کر) کہا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔اللهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنْ رَّسُولِ حضرت ابی بن کعب نے رسول اللہ صلی ﷺ سے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ آپ نے فرمایا: مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقِيلَ موسى بنی اسرائیل سے خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں لَهُ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ قَالَ أَنَا فَعَتَبَ سے کون سب سے بڑھ کر عالم ہے۔انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ کہا: میں۔اللہ نے ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ وَأَوْحَى إِلَيْهِ بَلَى عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي انہوں نے علم کو اللہ کی طرف کیوں نہیں لوٹایا۔بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ اور انہیں وحی کی (کہ تم نہیں) بلکہ ہمارے بندوں أَيْ رَبِّ كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَيْهِ قَالَ میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے تَأْخُذُ حُوتًا فِي مِكْتَل فَحَيْثُمَا زیادہ عالم ہے۔(موسیٰ نے) کہا: اے میرے رب ! اس کے پاس کیسے پہنچا جائے؟ فرمایا: ٹوکری میں فَقَدْتَ الْحُوتَ فَاتَّبِعْهُ قَالَ فَخَرَجَ ایک مچھلی لے لو ( اور چلے جاؤ) جہاں تم اس مچھلی کو مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ کو دو تو اُس کے پیچھے چلے جانا وہ بندہ مل جائے گا) وَمَعَهُمَا الْحُوتُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى (حضرت ابن عباس) کہتے تھے: موسیٰ روانہ ہو گئے الصَّخْرَةِ فَنَزَلَا عِنْدَهَا قَالَ فَوَضَعَ اور ان کے ساتھ اُن کا نوجوان یوشع بن نون بھی