صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 571
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۷۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف باب ٤ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتْهُ اتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هُذَا نَصَبَّا إِلَى قَوْلِهِ قَصَصًا (الكهف: ٦٣- ٦٥) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) پھر جب وہ (اس جگہ سے) آگے نکل گئے تو اس (یعنی موسیٰ) نے اپنے نوجوان (رفیق) سے کہا (کہ) ہمارا صبح کا کھانا ہمیں دو۔ ہمیں یقیناً اپنے اس اسفر کی وجہ سے تھکان ہو گئی ہے۔ اس نے کہا (کہ) بتائیے ( اب کیا ہو گا ) جب ہم ( آرام کے لیے ) اس چٹان پر ٹھہرے تو میں مچھلی (کا خیال ) بھول گیا اور مجھے یہ بات شیطان کے سوا کسی نے نہیں بھلائی۔ اور اس نے سمندر میں عجیب طرح سے اپنی راہ لے لی۔ اس نے کہا (کہ) یہی وہ (مقام) ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ پھر وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔ صنعا (الكهف: ١٠٥) عَمَلًا حِوَلا صُنْعا کے معنی ہیں کام۔ جولا کے معنی ہیں ایک (الكهف: ۱۰۹) تَحَوُّلًا ۔ قَالَ ذَلِكَ مَا جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ موسیٰ نے کہا: یہی وہ كُنَّا نَبْغِ فَارْتَنَا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا (مقام) ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ پھر وہ اپنے (الكهف: ٦٥)۔ اِمْرًا (الكهف: ٧٢) پاؤں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔ رانرا اور نگرا کے معنی ہیں بہت بڑی بات۔ يَنْقَضَ وَنُكْرًا (الكهف: ٧٥) دَاهِيَةً۔ يَنْقَضَ (الكهف: ۷۸) يَنْقَاضُ كَمَا تَنْقَاضُ السِّنُ۔ لَتَخِذْتَ وَاتَّخَذْتَ وَاحِدٌ۔ يَنْقَاضُ کے معنی میں ہے (یعنی وہ گر رہا ہے۔) انہی معنوں میں فقرہ تَنْقَاضُ السن ہے، یعنی دانت ٹوٹ رہا ہے۔ لَتَخِذت اور اتخذت بھی رحما (الكهف: (۸۲) مِنَ الرُّحْمِ وَهِيَ ایک ہی ہیں، یعنی تو نے لیا۔ رحما - رحم سے مشتق أَشَدُّ مُبَالَغَةً مِنَ الرَّحْمَةِ، وَيَظُنُّ أَنَّهُ ہے اور اس میں معنوں کے لحاظ سے رحمہ کی مِنَ الرَّحِيمِ۔ وَتُدْعَى مَكَةُ أَمَّ رُحْمٍ نسبت زیادہ مبالغہ ہے۔ اور خیال ہے کہ یہ لفظ أَيْ الرَّحْمَةُ تَنْزِلُ بِهَا ۔ رحیم سے ہے۔ مکہ کو اُٹھ رحیم کہتے ہیں۔ یعنی رحمت وہاں سدا نازل ہوتی ہے۔